Yadgar e Zamana Hain Jo Log  یادگار زمانہ ہیں جو لوگ | خاکے | انوار احمد

800.00

Description
یادگارِ زمانہ ہیں جو لوگ | خاکے
تدوین نو اور اضافہ شدہ ایڈیشن
مصنف: انوار احمد
366:  صفحات
افسانے ہوں یا خاکے یا گفتگو، انوار احمد کی پہچان اُن تہ دار، کاٹ دار اور گہرے طنز اور رمز کے حامل
جملوں سے ہوتی ہے، جن کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا۔ البتہ خود انوار احمد اُسے پانی پلانے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔

؎ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

.ڈاکٹر انوار احمد کے خاکوں کے کاٹ دار اسلو ب کی شہرت اس قدر ہوئی ہے کہ ان خاکوں کی کئی دوسری خوبیاں نظر سے
اوجھل ہوگئی ہیں۔ اگرچہ ان کے اسلوب میں طنز کی کاٹ ہے اور اس میں نازک طبع لوگوں کی خفگی کا سامان بھی ہے ، مگر
اس سے کہیں زیادہ ان خاکوں میں ذہانت اور تخلیقیت ہے۔ ذہانت اور تخلیقیت کا امتزاج کم ہی ہوتا ہے اور جہاں ہوتا ہے وہاں طنز
بھی ضرور در آتا ہے۔ وہ ایک اچھی یادداشت کے مالک ہیں۔
اچھی یادداشت کی کمی فنتاسی کو راہ دیتی ہے، جسے اُردو کے اکثر خاکوں میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
انوار صاحب کے یہاں موضوع خاکہ سے متعلق یادداشتوں کو ایک طرف صراحت اور دوسری طرف شخصی تاثر کے
ساتھ پیش کرنے کی روش ملتی ہے۔ ان کا شخصی تاثر متعلقہ عہد کے تاریخی
وسیاسی اور کہیں کہیں نفسیاتی پہلوؤں سے عبارت ہوتا ہے۔ وہ خاکوں میں شخصی یادداشت اور اجتماعی تاریخ
(جسے وہ ترقی پسند زاویے سے دیکھتے ہیں) کا نادر امتزاج دکھاتے ہیں۔
(ڈاکٹر ناصر عبا س نیّر)
اگر آپ پاکستان کی تاریخ اور ملتان کی تہذیبی و ثقافتی زندگی بہ یک وقت پڑھنا چاہیں تو ڈاکٹر انوار احمد کے
لکھے یہ خاکے تیر بہ ہدف نسخہ ہونے کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔

(ڈاکٹر شیباعالم)
Yadgar e Zamana Hain Jo Log
Khaake
Anwar Ahmed
Pages: 366
Year: 2021
Reviews (0)

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Yadgar e Zamana Hain Jo Log  یادگار زمانہ ہیں جو لوگ | خاکے | انوار احمد”

Your email address will not be published. Required fields are marked *