خوش ذوق قارئین کے لیے شاہکار آپ بیتیوں کا انتخاب
نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں | مرتبہ: محمد حامد سراج
ضحامت 688 صفحات | بڑا سائز | قیمت 1500 روپے
فہرست:
میر تقی میر ، مرزا اسد اللہ خاں غالب،مومن خان مومن،مرزا داغ دہلوی ،ڈپٹی نذیر احمد دہلوی،مولانا الطاف حسین حالی
،ریاض خیرآبادی،عبدالحلیم شرر،ڈاکٹر مولوی عبدالحق ،حسرت موہانی،خواجہ حسن نظامی،سیماب اکبرآبادی،منشی پریم
چند،یگانہ چنگیزی،تلوک چند محروم،مرزافرحت اللہ بیگ،ملّا واحدی،جگر مراد آبادی،ہادی مچھلی شہری،دیوان سنگھ مفتون
،فراق گورکھپوری،رشید احمد صدیقی، سیّد مسعود حسن رضوی ادیب،جوش ملیح آبادی،صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم ،ابوالاثر
حفیظ جالندھری ،شوکت تھانوی،سیّد ذوالفقار علی بخاری، مجنوں گورکھپوری،اختر شیرانی ،ممتاز مفتی،ڈاکٹرسیدعبداللہ،شاہد
احمد دہلوی،کنور مہندر سنگھ بیدی سحر،کنہیا لال کپور،فیض احمد فیض،سعادت حسن منٹو،میرا جی،اختر حسین رائے پوری،
مرزا ادیب،خواجہ احمد عباس،احسان دانش،کرشن چندر،عصمت چغتائی،راجندر سنگھ بیدی ،اخترالایمان،احمدندیم قاسمی،شورش
کاشمیری،امرتا پریتم،قتیل شفائی،شفیق الرحمٰن،ساحر لدھیانوی،رام لعل،انتظار حسین،ادا جعفری،ظ-انصاری،مختار مسعود ،قرۃ العین
حیدر،خدیجہ مستور،ہاجرہ مسرور،سلمیٰ صدیقی،گوپی چند نارنگ،زبیر رضوی، جیلانی بانو،محمد حامد سراج
آپ بیتیوں کی تلخیص گری – محمد حامد سراج
زندگی ایک بار ملتی ہے صرف ایک بار اور اسے ہر انسان نے گزارناہے اورخود گزر جانا ہے۔ زندگی نے بہر طور گزرنا ہے
اور یہ رکتی ہے اور نہ وقت رکتا ہے لیکن کون اسے کس انداز کس رنگ میں گزارتا ہے یہ بات اہم ہے۔ سوچتا ہوں زندگی تو میری
بھی بیت چکی اب عمر کا وقت عصر ہے بل کہ عصر بھی ڈھل چکی۔ سب کی عمریںبیت جاتی ہیں میری عمربھی زمانہ نگل گیا۔ کیا
اس میںکوئی ایسی بات ہے جسے میں آنے والے زمانوں کے لیے محفوظ کر جاؤں_____ ؟ لیکن یہ میری آپ بیتی نہیں بل کہ یہ تو
ان نامور لوگوں کی زندگیوں کے انمول لمحات ہیں جنہوں نے زندگی کو جھیلا، جیا، دکھ سکھ کے موسموں سے گزرے بہاریں دیکھیں
، خزاں کے موسم تن پر جھیلے۔ اپنی زندگی کے کسی لمحے کو رائیگاں نہیں جانے دیا۔ ان کے واقعات ، حالات، سانحات، تجربات ان کے
نہ رہے، زمانے نے ان سے رہنمائی لی۔ان کی زندگی روشن تھی وہ روشنی آج بھی راہ نما کل بھی مشعل راہ _____یہ کل کی بات ہے
یہ کوئی قصہ پارینہ نہیں میں اپنی خانقاہ کے مدرسہ سے چھٹی کر کے صحن میں داخل ہوا ، وہ بھی بھاگتا ہوا کیوں کہ مجھے بیری سے
لال لال بیر چننا تھے۔ دیکھا تو دادی اماں توے پر چپاتی ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے مجھے بلا لیا کہ پہلے روٹی کھا لو۔ انکار کی مجال تھی سو
ان کے پہلو میں پیڑھی پر بیٹھ گیا۔ توے سے گرم گرم چپاتی اتری اس پر دادی اماں نے مکھن کا پیڑَہ رکھا ساتھ ہی چٹکی بھر نصیحت کی
چٹنی رکھ دی کہ بیٹا انسان جھوٹ بولے تو زبان کالی ہو جاتی ہے بے شک شیشے میں اپنی زبان الٹ کے دیکھ لینا۔ اسی روز بوقت عصر
چھپ کر ’’وِچالے والے کوٹھے‘‘[درمیان والا کمرہ]، میں جا کر میں سنگھار میز کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ زبان جو الٹ کر دیکھی تو تھوڑی
سلیٹی رنگت سی نظر پڑی۔ دل میںڈر بیٹھ گیا۔ کچھ دن بعد ڈرتے ڈرتے دادی اماں کو بتایا کہ زبان نیچے سے تھوڑی سی سلیٹی ہے۔ دیکھا
نا دادی اماں نے کہا اگر جھوٹ پر قابو نہ پایا تو یہ پوری کالی ہو جائے گی_____صدقے اس انداز ِ تربیت پر ! بچپن ہی میں مزاج سے
جھوٹ نکل گیا۔ اللہ نے ہمیشہ کے لیے جھوٹ سے محفوظ کر دیا۔ یہ آپ بیتی کا ایک ٹکڑا ہے_____ٹکڑے جوڑے جائیں تو زندگی عکس
در عکس اپنی چھب دکھاتی ہے آپ بیتی میں کتنے فی صد سچ ہوتاہے ؟ زیب داستان کے لیے کتنا مصالحہ ڈالا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا بہت
مشکل کام ہے لیکن آپ بیتی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں آپ بیتی نگار کے ساتھ قاری بھی نہ صرف مطالعے سے لطف اندوز ہوتا ہے بلکہ
وہ واقعات اور تجربات کے آئینہ میں اپنی زندگی کے خال وخد بھی پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ بیتی کا کوئی ایک جملہ آپ کی زندگی
کا رخ بدل سکتا ہے۔ آپ بیتیوں کے مطالعہ سے زندگی جینے کا حوصلہ ملتا ہے
Reviews
There are no reviews yet.