4 Great Mystics | 4 Booklets Set
Ain Ul Faqr | The Soul Of Faqr | Hazrat Sultan Bahoo
Ain Ul Faqr | The Soul Of Faqr | Hazrat Sultan Bahoo
Al-Takashef An Muhimmat Al-Tasawwuf-التکشف عن مہمات التصوف
Asmaye ilahiyyai { كشف المعنى عن سر أسماء الله الحسنى}
Author: Shaykh al-Akbar Muhyiddin Ibn al-Arabi
Translated by: Abrar Ahmed Shahi
{للہ تعالیٰ فر ما تا ہے : (بیشک اللہ کے خو بصو رت نا م ہیں سو اِ ن نامو ں سے اُ سے پکا رو )، (الا عرا ف : 180)یہ اس با ت کی دلیل ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان اسما کو ہما رے لیے اپنی کتاب یا اپنے رسو ل ﷺ کی زبا نی متعین کر دیا ہے یہ ننا نو نے نا م ہیں جیسا کہ اس با ر ے میں ایک صحیح خبر ہے ۔
حق تعالیٰ کے اسما دو طرح کے ہیں : ایک وہ جو اُ س نے ہمیں سکھا ئے اور دو سرے وہ جو اس نے اپنے غیب کے علم میں چھپا ئے ، جنہیں اُ س کی مخلو ق میں کوئی نہیں جا نتا ، ایک صحیح حد یث کا یہی بیا ن ہے ۔
وہ اسما جو اُ س نے ہمیں سکھا ئے وہ بھی دو طرح کے ہیں : ایک وہ اسما جو خا ص پہچا ن کے لیے ہیں جیسے کہ اسم اللہ ۔ اور دو سرے وہ اسما جو اضا فی صفات کو بیا ن کر تے ہیں ، یہ وہ بھی دو طر ح کے ہیں : ایک وہ اسما جو صفاتِ تنز یہ پر دلا لت کرتے ہیں ، اور دو سرے وہ اسما جو صفاتِ افعا ل پر دلا لت کرتے ہیں ۔
بندے کا اسما ئے حق تعالیٰ سے تعلق ، تحقیق اور تخلیق کا رشتہ ہے تعلق اس حیثیت سے تیرا اِن اسماکا مطلق محتاج ہونا ہے جس (حیثیت )سے یہ ذا ت پر دلا لت کرتے ہیں ۔ تحیقق حق تعالیٰ کے لحاظ سے اور خود تیر ے لحا ظ سے ان کے حقیقی معا نی کا جا ننا ہے جبکہ تخلق یہ ہے کہ تو ان سے ویسے قائم ہو جو تیرے لا ئق ہے جیسا کہ یہ (اسما)اُ س پا ک ذا ت سے ویسے منسو ب کیے جاتے ہیں جیسا اُ س کے شایا ن شان ہے ۔}
Auliya o Salheen k Fazail o Manaqib
Merits and Virtues of Saints and the Pious
Category : Manaqib
Author : Shykh ul Islam Dr Muhammad Tahir ul Qadri
Book Language : Urdu
Pages : 432
Price : Rs 750
Binding : Hard
Deewan E Hafiz Shairazi-دیوان حافظ شیرازی
حافظ شیرازی صاحب کی تمام عمر کا حاصل بس ایک ہی دیوان ہے جو مقبول خاص و عام ہے۔ حافظ شیرازی کی شاعری کا سرمایہ ان سے زیادہ نہیں مگر اس سرمایہ سے انہوں نے تمام دنیا کی قدر دانی اور قبولیت خریدی۔ خواجہ صاحب نے کمال ایجاز سے عاشقانہ اور عارفانہ فضاء میں شاعری کی۔ ان کے یہاں مولانا روم کی حکمت و تصوف اور سعدی کا درس عشق ایک ساتھ نظر آتا ہے۔حافظ شیرازی کے دیوان میں غزلیں ملتی ہیں۔ دو مختصر مثنویاں ایک (ساقی نامہ) اور چند قصیدے اس پر مستزاد۔ حافظ شیرازی نے سعدی اور رومی کی پیروی کی۔ دیوان میں کم ازکم تیس غزلیں سعدی کی بحر میں ہیں اور چند رومی کے زیر اثر ہیں مگر الفاظ ، تراکیب ، معانی آفرینی اور دل آویزی میں آپ کا کلام اول سے آخر تک منفرد ہے۔ خواجہ صاحب کا دیوان کا ہر شعر نزاکت و لطافت ، ضائع و بدائع اور حسن و ادا کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ دیوان حافظ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اہل ایران حافظ کے دیوان سے فال نکالتے ہیں۔ دیوان کی اہمیت کے پیش نظر کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہوئے۔ زیر نظر دیوان میں فارسی عبارت کے ساتھ اردو ترجمہ اور حواشی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔




