Mulla Nasruddin ملانصر الدین | داستان خواجہ بخارا کی | لیونید سولوویف
MUSLIM CONTRIBUTION TO PUNJABI LITERATURE
Mutaliat -e- Iqbal مطالعات اقبال | ڈاکٹر اسلم انصاری
Orient And Occident: My Life In East And West
Phir Achanak Youn Hua
Rehnumaye Farsi رہنمائے فارسی
Rumi’s Secret: The Life Of The Sufi Poet Of Love
Russell Ki Aap Beeti | رسل کی آپ بیتی
Sach Ki Talash Main سچ کی تلاش میں | امجد اسلام امجد
Suraj Mukhi
TAFSEET BAGHVI-تفسیر بغوی
معالم التنزیل ہندوستانی علما اپنے عرف میں تفسیر بغوی حسین بن مسعود بغوی (وفات 433ھ/436ھ-516ھ/1122ء) کی تصنیف کردہ مشہور اور قدیم سنی تفسیر ہے
علامہ بغوی مصر کے رہنے والے ہیں اور مسلکاً شافعی ہیں، ان کی کنیت ’’ابومحمد‘‘ اور نام حسین بن مسعود ہے، علمِ لغت، علمِ قرأت کے علاوہ فقہ میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں، انھوں نے اپنی تفسیر میں عہدِ رسالت سے لے کر پانچویں صدی تک کے اکابرِ امت کے ارشادات سے استفادہ کیا ہے،
تفسیر کی خصوصیاتترميم
- یہ متوسط ضخامت کی تفسیر ہے جو قرآن کریم کی فہم میں بہت مدد دیتی ہے اور جس میں قرآن کریم کے مضامین تفسیری مباحث کی تفصیلات میں گم نہیں ہو پاتے۔
- امام بغوی چونکہ ایک جلیل القدر محدث بھی ہیں، اِس لیے اِس کتاب میں عموماً مستند روایات لانے کا اہتمام موجود ہے، ضعیف اور منکر روایات اِس تفسیر میں کم ہیں۔
- وہ اسرائیلی روایات جن سے اکثر تفسیریں بھری ہوئی ہیں، اِس کتاب میں زیادہ نہیں ہیں۔
- امام بغوی نے زیادہ تر زور قرآن کریم کے مضامین کی تفہیم پر دِیا ہے اور نحوی اور کلامی مباحث کی تفصیلات سے گریز کیا ہے۔[1][2]
’’تفسیرِ بغوی‘‘ میں تفسیر الثعلبی کا اختصار کیا گیا ہے۔ احادیث،آثارِ صحابہ وتابعین سے یہ تفسیر بھری پڑی ہے، شانِ نزول بھی روایات کے حوالوں سے بیان فرماتے ہیں، اس تفسیر میں تفسیرِ خازن اور تفسیرِ ابن کثیر کے حوالے بھی خوب ملتے ہیں؛ البتہ روایات کے ضمن میں اسرائیلیات بھی درآئی ہیں، علامہ بغویؒ تحقیقِ لغات میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں، اس تفسیر میں اس کے مظاہر ملتے ہیں، اسی طرح فقہی مسالک اور مسائل کو بھی بیان کیاہے؛ چونکہ مختلف قرأ توں کی وجہ سے تفسیر کے معانی ومفاہیم میں وسعت پیدا ہوتی ہے؛ اس لیے موصوف نے قرأ ت کی تفصیلات بھی خوب بیان فرمائی ہیں




