LIBRARY STOCK

Shanshah e Karbala Almaroof Dastaan e Ghum

400.00
Author(s): Arsalan Ahmed Pages(s): 384 Cover Type: Hard

JUST SO STORIES

499.00
"JUST SO STORIES" by RUDYARD KIPLING. Paperback edition, available online at Kitab Rekhta.

International Relations MCQs By Aamer Shahzad HSM Publisher

850.00
Title: International Relations MCQs Author: Aamer Shahzad Publisher: HSM Publisher Pages: 264 Subject: CSS PMS International Relations  

The psychology of Money – Paisy Ki Nafsiyat

800.00
Author:      Morgan Housel Translation : Waqas Mouzam Jhojha

SIRA AL-RASUL (PBUH) KI TAHZIBI WA SAQAFATI AHAMIYYAT | سیرۃ الرسول کی تہذیبی و ثقافتی اہمیت

100.00
سیرت و فضائل نبوی ﷺ ‎ : زمرہ مصنف : شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری زبان : اردو صفحات : 156

Mirat ul Manajaeeh sharah Mishkat ul Masabeeh

Original price was: ₨11,000.00.Current price is: ₨7,700.00.
Mirat ul Manajeeh sharah Mishkat ul Masabeeh Author: Mufti Ahmad Yar khan Naeemi

Asmaye ilahiyyai { كشف المعنى عن سر أسماء الله الحسنى}

Original price was: ₨3,000.00.Current price is: ₨2,000.00.
Author: Shaykh al-Akbar Muhyiddin Ibn al-Arabi Translated by: Abrar Ahmed Shahi {للہ تعالیٰ فر ما تا ہے : (بیشک اللہ کے خو بصو رت نا م ہیں سو اِ ن نامو ں سے اُ سے پکا رو )، (الا عرا ف : 180)یہ اس با ت کی دلیل ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان اسما کو ہما رے لیے اپنی کتاب یا اپنے رسو ل ﷺ کی زبا نی متعین کر دیا ہے یہ ننا نو نے نا م ہیں جیسا کہ اس با ر ے میں ایک صحیح خبر ہے ۔ حق تعالیٰ کے اسما دو طرح کے ہیں : ایک وہ جو اُ س نے ہمیں سکھا ئے اور دو سرے وہ جو اس نے اپنے غیب کے علم میں چھپا ئے ، جنہیں اُ س کی مخلو ق میں کوئی نہیں جا نتا ، ایک صحیح حد یث کا یہی بیا ن ہے ۔ وہ اسما جو اُ س نے ہمیں سکھا ئے وہ بھی دو طرح کے ہیں : ایک وہ اسما جو خا ص پہچا ن کے لیے ہیں جیسے کہ اسم اللہ ۔ اور دو سرے وہ اسما جو اضا فی صفات کو بیا ن کر تے ہیں ، یہ وہ بھی دو طر ح کے ہیں : ایک وہ اسما جو صفاتِ تنز یہ پر دلا لت کرتے ہیں ، اور دو سرے وہ اسما جو صفاتِ افعا ل پر دلا لت کرتے ہیں ۔ بندے کا اسما ئے حق تعالیٰ سے تعلق ، تحقیق اور تخلیق کا رشتہ ہے تعلق اس حیثیت سے تیرا اِن اسماکا مطلق محتاج ہونا ہے جس (حیثیت )سے یہ ذا ت پر دلا لت کرتے ہیں ۔ تحیقق حق تعالیٰ کے لحاظ سے اور خود تیر ے لحا ظ سے ان کے حقیقی معا نی کا جا ننا ہے جبکہ تخلق یہ ہے کہ تو ان سے ویسے قائم ہو جو تیرے لا ئق ہے جیسا کہ یہ (اسما)اُ س پا ک ذا ت سے ویسے منسو ب کیے جاتے ہیں جیسا اُ س کے شایا ن شان ہے ۔}