تحقیق الاضابیر فی سماع المزامیر | Tahqeeq ul Azabeer Fi Sama ul Mazameer
₨400.00
“اسلامی کتب”
موضوع : قوالی / سماع / تصوف
نام کتاب : “تحقیق الاضابیر فی سماع المزامیر”
نام ترجمہ : “ساز کے ساتھ مجلس سماع کی لاجواب تحقیق”
تالیف : فخر العارفین حضرت علامہ سید شاہ عبد الحئی قدس سرہ العزیز
تحقيق الاضابير في سماع المزامیر میں حضرت علامہ شاہ عبدالحئی قدس سرہ نے صرف ایک غلط اور گمراه فتوے کی رد نہیں کی ہے بلکہ ان کی تصنیف قرآن و احادیث سے کسی حکم کے استنباط واستخراج کے اصول وقواعد کی تشریح و توضیح بھی ہے۔ ایک طویل عرصہ انہوں نے درجات عالیہ کے طلباء کو درس دیتے ہوئے گزارے تھے اس لئے ان کی تحریر میں استاد کی مشفقانہ شفقت بھی ہے اور غلط مفاہیم و معانی سے محفوظ رکھنے کیلئے مربیانہ سختی و تندی بھی ہے۔ عموما ان موضوعات پر جو تحریریں ملتی ہیں وہ خشک گنجلک اور خالص فنی ہوتی ہیں لیکن یہ مصنف قدس سرہ کی جو استاد الاساتذہ ہیں کرامت ہے کہ آپ کی تحریر سلیس، سہل اور زودفہم ہے۔
519ھ میں املا کرائی گئی تفسیر زاهدی پہلی فارسی تفسیر ہے لیکن اس کے بعد جتنی عربی تفسیر لکھی گئیں وہ سب تفسیر امام زاہد کی خوشہ چیں نظر آتی ہیں ۔ خواہ بیضاوی ہو یا جلالين، التفسيرات الاحمديه ہو یا تفسير مظهری ۔ ٹھیک اسی طرح تحقیق الأضابير في سماع المزامیر اس موضوع پر وہ ام المتون ہے کہ جتنی کتابیں اس موضوع جواز پر تالیف ہوئیں سب کی سب بالاقرار و بلا اقرار اس کی خوشہ چیں ہیں۔
مثنوی مولانا روم کا مطالعہ کرنے والا حضرت مولانا کوکسی موضوع پر مثال دیتا ہوا پاتا ہے تو عش عش کر دیتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح تحقیق الاضابیر میں جب حضرت العلام مثالیں اور نظیریں پیش کرنے لگتے ہیں تو قلب سلیم رکھنے والا حضرت کی جلالت کی وصلاحیت فقہی کا ہر قدم پر نئے سرے سے قائل ہونے لگتا ہے۔
تحقيق الأضابير میں حضرت علام کی عظیم القدر محدثانہ شان بھی عیاں ہوتی ہے کہ استاذ حدیث ایک حدیث پر تکیہ کر کے اپنی بصارت کا مدعی نہیں ہوتا بلکہ اس کی بصیرت اس نوعیت کی جملہ احادیث کو اس کے سامنے یوں نمایاں کردیتی ہے جیسے جام جہاں نما ہاتھوں میں ہو۔ یہ تالیف اپنی زبان اور اپنے بیان کے اعتبار سے بھی بطور خاص قابل تذکرہ ہے۔ عربی زبان میں تالیف ہونے والا یہ قیمتی رسالہ اپنے اسلوب اور سبق کے اعتبار سے بے حددلکش اور سہل ہے۔ دارالافتاء وتربیت افتاء کے نہ صرف طلباء بلکہ زعماء کو بھی علامہ بندی نژادی اس عربی نثر کو دیدد عبرت نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔
تحقيق الأضابير کی پہلی اشاعت 1312ھ میں مطبع اسلامی محلہ مصر بازار غازی پور، یوپی، بھارت سے ہوئی تھی ۔ ای مطبوی نسخه کانکس در بار جہانگیر یہ مرزاکھیل شریف چاٹگام بنگلہ دیش سے خانقاه نعمیہ کے کتب خانے کو موصول ہوا، دوران ترجمہ تحقیق ہی کے پیش نظر رہا۔
تحقيق الاضابیر پر اس دور کے عظیم البرکت علماء و مشائی نے تقریظیں ثبت فرمائیں، جن میں حضرت مولانا فاروق حنفی عباسی (م 1909ء)، حضرت مولانافیض اللہ العظمی جیسے علمائے کرام اور سلسلہ رشیدیہ کے عظیم شیخ حضرت مولانا حکیم محمد عبد العلیم آسی غازی پوری (م 1335ھ ) و سلسلہ آبادانیہ کے شیخ جلیل حضرت حافظ فرید الدین آروی (م 1324ھ ) جیسے مقبول ترین مشایخ شامل ہیں
Related products
FAZAIL E AHLE BAIT فضائل اہل بیت
Hurmat Takfeer Muslim
Litafat e Jasad e Mustafa ﷺ | علامہ قاری ظہور احمد فیضی | Kitab Rekhta
Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Radd | علامہ قاری ظہور احمد فیضی
"شانِ معاویہ میں باطل روایات کا رد" Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Raddعلامہ قاری ظہور احمد فیضی کی ایک بے باک تحقیقی تصنیف ہے جو دورِ حاضر میں فضائل کے نام پر پھیلائی جانے والی موضوع (Fabricated) روایات کا علمی تعاقب کرتی ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو "ردِ ناصبیت" اور مستند تاریخِ اسلام کے متلاشی ہیں۔ اس میں الیاس قادری (امیر اہل سنت) اور اشرف آصف جلالی (کنز العلماء) کے علمی دعاوی کا مدلل علمی رد موجود ہے۔






Reviews
There are no reviews yet.