Hazrat Abu Zar Ghaffari Biography

800.00

مشہور عرب مصنف عبدالحمید جودۃ السحار کی یہ کتاب(Hazrat Abu zar Ghaffari) تاریخِ اسلام کے اس عظیم درویش صحابی کی سوانح ہے جنہیں حضور ﷺ نے ‘اصدق الناس’ (لوگوں میں سب سے سچا) قرار دیا۔

اس کتاب میں آپ پڑھیں گے:

حق گوئی کا سفر: مکہ کی گلیوں سے لے کر دربارِ خلافت تک حق بات کہنے کی جرات۔

سرمایہ داری کے خلاف آواز: مال و دولت کی غیر منصفانہ تقسیم پر حضرت ابو ذر غفاریؓ کا انقلابی موقف۔

غربت اور فقر: وہ درویش جس نے فاقہ کشی کو بادشاہت پر ترجیح دی۔

آخری ایام: ربذہ کے صحرا میں تنہائی کی موت اور حضور ﷺ کی پیشگوئی کی سچائی۔

یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو مادیت پرستی کے دور میں سچائی اور سادگی کا راستہ تلاش کرنا چاہتا ہے۔”

Description

حضرت ابوذر غفاری |Hazrat Abu Zar Ghaffari

سرمایہ داری کے خلاف آواز: مال و دولت کی غیر منصفانہ تقسیم پر حضرت ابو ذر غفاریؓ کا انقلابی موقف۔

حضرت ابو ذر غفاریؓ کی شخصیت تاریخِ اسلام میں ایک ایسی منفرد حیثیت رکھتی ہے جس نے رہتی دنیا تک کے لیے معاشی انصاف اور مساوات کے زریں اصول متعین کر دیے۔ آپؓ کی فکر کا سب سے نمایاں پہلو مال و دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف آواز اٹھانا تھا، جسے جدید دور کے کچھ مفکرین “اسلامی اشتراکیت” (Islamic Socialism) سے تعبیر کرتے ہیں، حالانکہ آپؓ کی فکر خالصتاً قرآنی تعلیمات اور نبوی ﷺ تربیت کا نچوڑ تھی۔

فکرِ ابو ذر غفاریؓ اور معاشی مساوات

حضرت ابو ذر غفاریؓ کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ ضرورت سے زائد مال جمع کرنا (کنز) شرعاً درست نہیں ہے۔ وہ قرآن مجید کی اس آیت:

“اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔” (التوبہ: 34)

پر سختی سے عمل پیرا تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک مسلمان کو صرف اتنا مال اپنے پاس رکھنا چاہیے جو اس کی اور اس کے اہل خانہ کی فوری ضروریات کے لیے کافی ہو، باقی تمام مال اللہ کی راہ میں ضرورت مندوں پر خرچ کر دینا چاہیے۔

اشتراکیت سے مماثلت اور فرق

جدید اشتراکیت (Socialism) بھی اسی بات پر زور دیتی ہے کہ وسائل پر ریاست یا عوام کا مشترکہ حق ہو اور دولت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو۔ حضرت ابو ذر غفاریؓ کی فکر میں ہمیں اس کی جھلک یوں ملتی ہے کہ انہوں نے امراء اور حکامِ وقت کو اس بات پر ٹوکا کہ وہ عالی شان محلات اور بے پناہ دولت کیوں جمع کر رہے ہیں جبکہ عوام مفلسی کا شکار ہیں۔

تاہم، ان کی فکر اور مغربی اشتراکیت میں واضح فرق یہ ہے کہ:

  1. بنیاد: مغربی اشتراکیت مادی جدوجہد پر مبنی ہے، جبکہ حضرت ابو ذرؓ کی فکر اللہ کے خوف اور آخرت کی جوابدہی پر مبنی تھی۔

  2. اختیار: وہ زبردستی مال چھیننے کے قائل نہیں تھے بلکہ تقویٰ کے اس درجے پر تھے جہاں وہ مال رکھنے کو ایمان کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔

حق گوئی اور جدوجہد

جب شام کے گورنر حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں فتوحات کی وجہ سے مال و دولت کی فراوانی ہوئی، تو حضرت ابو ذرؓ نے برملا اس طرزِ زندگی کی مخالفت کی۔ انہوں نے محلوں کی تعمیر اور ذخیرہ اندوزی کو اسلامی روح کے منافی قرار دیا۔ ان کا یہ موقف اس قدر سخت اور بے لچک تھا کہ وہ کسی مصلحت کو قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ ان کی نظر میں معاشرے کا امن تب ہی ممکن ہے جب امیر اپنے مال میں غریب کا حق تسلیم کرے اور اسے “کنز” (ذخیرہ) نہ بنائے۔

حاصلِ بحث

عبدالحمید جودۃ السحار نے اپنی تالیف میں اس فکر کو بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے کہ حضرت ابو ذرؓ محض ایک گوشہ نشین زاہد نہیں تھے، بلکہ وہ ایک معاشی مصلح تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام صرف نماز روزے کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرے کے کمزور طبقات کو ان کا حق دلوانے اور معاشی استحصال کو جڑ سے اکھاڑنے کا نام ہے۔ ان کی “اشتراکیت” دراصل “اسلامی اخوت” کا وہ عملی نمونہ تھی جہاں انسان، انسان کا استحصال نہیں کرتا۔

حضرت ابو ذر غفاریؓ کی زندگی حق گوئی اور بے باکی کے ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جو پڑھنے والے کے رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں۔ عبدالحمید جودۃ السحار نے ان کی زندگی کا سب سے اہم اور رقت آمیز واقعہ ان کی وفات اور تنہائی کا بیان کیا ہے

سب سے اہم اور اثر انگیز واقعہ: “تنہائی کا مسافر”

حضرت ابو ذر غفاریؓ اپنی زندگی کے آخری ایام میں مدینہ سے دور ایک ویران جگہ “ربذہ” میں مقیم تھے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں دور دور تک کوئی آبادی نہ تھی۔

واقعہ کچھ یوں ہے: جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کی اہلیہ رونے لگیں۔ آپؓ نے پوچھا، “تم کیوں روتی ہو؟” انہوں نے کہا، “میں اس لیے روتی ہوں کہ آپ فوت ہو رہے ہیں اور میرے پاس نہ تو کوئی ایسا کپڑا ہے جو آپ کا کفن بن سکے اور نہ ہی یہاں کوئی ایسا شخص ہے جو آپ کی تدفین میں میری مدد کرے۔”

حضرت ابو ذر غفاریؓ نے مسکرا کر فرمایا: “روؤ نہیں! میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے سنا تھا کہ ‘تم میں سے ایک شخص ایک ویران میدان میں مرے گا اور اس کی جنازہ گاہ پر مسلمانوں کی ایک جماعت پہنچے گی’۔ اس مجلس میں موجود تمام لوگ بستیوں میں فوت ہو چکے، صرف میں باقی ہوں، اس لیے وہ خوشخبری میرے ہی لیے تھی۔”

چنانچہ آپ کی وفات کے تھوڑی ہی دیر بعد وہاں سے ایک قافلہ گزرا جس میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ شامل تھے۔ انہوں نے جب اس عظیم صحابی کی میت دیکھی تو رو پڑے اور پکار اٹھے:

“اللہ کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا تھا: ابو ذر! تم اکیلے چلتے ہو، اکیلے مرو گے اور اکیلے ہی اٹھائے جاؤ گے۔”

Reviews (0)

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Hazrat Abu Zar Ghaffari Biography”

Your email address will not be published. Required fields are marked *