مولا علی کی حکمت اور قانونی فیصلے | Maula Ali Decisions & Modern Law | ڈاکٹر علی وقار قادری
₨800.00
مولا علی کی حکمت اور قانونی فیصلے پر مبنی ڈاکٹر علی وقار قادری کی یہ عظیم الشان تصنیف، سیدنا علی المرتضیٰؓ کی علمی بصیرت کو جدید عدالتی نظام کے تناظر میں پیش کرتی ہے۔ اس کتاب میں آپ کو لولا علی لہلک عمر جیسے تاریخی اعترافات سے لے کر PPC (تعزیراتِ پاکستان) کے آرٹیکل 84 اور Law of Common Intention کی جڑیں مولا علیؓ کے عدالتی فیصلوں میں ملیں گی۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کس طرح ایک پاگل عورت کی سزا کے فیصلے یا اجتماعی جرم میں مشترکہ نیت (Common Intention) کے اصولوں نے جدید عالمی قوانین کی بنیاد رکھی، تو یہ تحقیقی مقالہ آپ کے لیے ایک ناگزیر مطالعہ ہے۔ مولا علی کی حکمت اور قانونی فیصلے کی تفہیم کے لیے اس سے بہتر علمی مجموعہ عصرِ حاضر میں موجود نہیں ہے۔
مولائے کائنات ﷺ آیتِ حکمت کے آئینے میں مصنف: ڈاکٹر علی وقار قادری
تعارف: بابِ مدینۃ العلم سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذاتِ اقدس علم و حکمت کا وہ سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ ڈاکٹر علی وقار قادری کی تصنیف “مولائے کائنات ﷺ: آیتِ حکمت کے آئینے میں” ایک ایسی نادر علمی دستاویز ہے جو محض عقیدت پر مبنی نہیں، بلکہ مولا علی کی حکمت اور قانونی فیصلے کا جدید قانونی نظام کے ساتھ ایک تقابلی شاہکار ہے۔ یہ کتاب اس نظریے کو پختہ کرتی ہے کہ موجودہ دور کے تمام اہم قوانین کی بنیادیں چودہ سو سال قبل حضرت علیؓ کی عدالتی بصیرت میں رکھی جا چکی تھیں۔
حکمتِ علوی اور لولا علی لہلک عمر کا پس منظر:
کتاب کا ایک نہایت اہم حصہ ان واقعات پر مشتمل ہے جہاں حضرت عمر فاروقؓ جیسے جلیل القدر خلیفہ نے مشکل ترین عدالتی معاملات میں سیدنا علیؓ سے رجوع فرمایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی بار حضرت عمرؓ نے برملا اعتراف فرمایا: “لولا علی لہلک عمر” (اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا)۔ مصنف نے ان مقدمات کو نہایت باریک بینی سے بیان کیا ہے جن میں حضرت علیؓ نے اپنی خداداد بصیرت سے انصاف کے وہ تقاضے پورے کیے جو انسانی عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC) اور حکمتِ علوی کا تقابل:
اس کتاب کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ ڈاکٹر علی وقار قادری نے مولا علی کی حکمت اور قانونی فیصلے کو تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے آرٹیکلز کے ساتھ جوڑ دیا ہے:
Act of Person of Unsound Mind (آرٹیکل 84):
کتاب میں اس مشہور فیصلے کا ذکر ہے جب ایک مجنون (دماغی طور پر معذور) عورت کو سزا سنانے کی نوبت آئی، تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جب تک اس کی عقل ٹھیک نہیں ہو جاتی، اس پر سزا نافذ نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ یہ وہی اصول ہے جو آج PPC کے آرٹیکل 84 کی بنیاد ہے۔
Law of Common Intention (مشترکہ نیت):
فوجداری قانون میں ‘مشترکہ نیت’ ایک پیچیدہ موضوع ہے۔ کتاب کے صفحہ نمبر 169 پر مصنف نے ثابت کیا ہے کہ حضرت علیؓ نے کس طرح ایک اجتماعی قتل کے مقدمے میں تمام شرکاء کو سزا کا حقدار قرار دے کر انصاف کا وہ اصول وضع کیا جسے آج دنیا ‘Common Intention’ کے نام سے جانتی ہے۔
جدید بین الاقوامی قوانین اور فقہِ علوی:
Law of Tort (قانونِ ہرجانہ):
مصنف نے کمالِ مہارت سے بتایا ہے کہ حادثاتی موت یا غفلت (Negligence) کی وجہ سے ہونے والے نقصان پر ہرجانہ (Damages) وصول کرنے کے جو قوانین آج یورپ میں رائج ہیں، حضرت علیؓ نے ان کے فیصلے صدیوں پہلے صادر فرمائے تھے۔
Labour Law (قانونِ محنت):
مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کا نبویؐ اصول اور اس پر حضرت علیؓ کا بصرہ کی نہر کی کھدائی کے دوران عملی نفاذ، محنت کشوں کے حقوق کی بہترین مثال ہے۔
سیدہ کائناتؓ اور نسبِ نبویؐ کی عظمت:
کتاب صرف قانونی پہلوؤں تک محدود نہیں بلکہ اس میں مولا علی کی حکمت اور قانونی فیصلے کے ساتھ ساتھ اہل بیتِ اطہار کی عظمت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ مصنف نے علمی دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی نسلِ پاک کو سیدہ فاطمہؓ اور مولا علیؓ کے ذریعے قیامت تک جاری رکھا۔ سیدہ کائناتؓ کی رسول اللہ ﷺ سے مشابہت اور ان کے اوصافِ حمیدہ پر ڈاکٹر علی وقار قادری کی تحقیق قاری کے ایمان کو تازگی بخشتی ہے۔
علم الفقہ اور بصیرتِ علوی:
کتاب میں “علم الفقہ” کی لغوی و اصطلاحی تعریف سے لے کر اجتہادِ علوی کے تفصیلی اصولوں تک ہر پہلو کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مصنف نے ثابت کیا ہے کہ حضرت علیؓ شریعت کے ظاہری اور باطنی اسرار کے وہ واحد امین ہیں جن کے فیصلے ہر دور کے ججوں اور قانون دانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
نتیجہ فکر: “مولائے کائنات ﷺ آیتِ حکمت کے آئینے میں” ایک ایسا تحقیقی مقالہ ہے جو دین اور دنیا، شریعت اور جدید قانون کے درمیان حائل خلیج کو پاٹ دیتا ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ناگزیر ہے جو اسلامی نظامِ عدل کی گہرائیوں کو سمجھنا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر علی وقار قادری نے اس شاہکار کے ذریعے ثابت کر دیا کہ مولا علی کی حکمت اور قانونی فیصلے آج بھی اتنے ہی زندہ اور نافذ العمل ہیں جتنے چودہ سو سال پہلے تھے
| Authors |
DR ALI WAQAR QADRI |
|---|
Related products
Haqeeqat e Tafzeel | Afzaliyat e Ali
- حقیقتِ تفصیل: افضلیتِ علیؓ اور دعویٰ اجماع کا تحقیقی جائزہ
- کتاب ریختہ پر پیشِ خدمت ہے علمی شاہکار "حقیقتِ تفصیل"، جو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی افضلیت کے موضوع پر ایک منفرد اور جرات مندانہ تحقیقی دستاویز ہے۔ اس کتاب میں مولانا احمد رضا خان (اعلیٰ حضرت) کے اس موقف کا علمی و تاریخی محاسبہ کیا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی افضلیت پر امت کا قطعی اجماع موجود ہے، اور ان روایات کی قلعی کھولی گئی ہے جنہیں اعلیٰ حضرت نے اپنے دعوے کی بنیاد بنایا۔
- مزید برآں، مصنف نے مفتی منیب الرحمان اور دیگر عصری علما کے ان حالیہ فتاویٰ کا بھرپور رد پیش کیا ہے جن میں افضلیتِ علیؓ کے قائلین کو گمراہ یا اہل سنت سے خارج قرار دیا گیا۔ مستند سنی ائمہ اور جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے حوالہ جات سے ثابت کیا گیا ہے کہ سیدنا علیؓ کو افضل ماننا نہ صرف جائز بلکہ سلف صالحین کا تسلیم شدہ راستہ ہے۔
- اہم خصوصیات:
- مولانا احمد رضا خان کے دعویٰ اجماع کی علمی و تاریخی تردید۔
- مفتی منیب الرحمان کے تضلیل آمیز فتاویٰ کا مدلل اور منطقی جواب۔
- افضلیتِ علیؓ پر صحابہ کرامؓ (جیسے سلمان فارسیؓ و ابوذر غفاریؓ) کے موقف کی وضاحت۔
- خلافتِ ظاہری اور فضیلتِ باطنی کے درمیان علمی فرق کا بیان۔
Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Radd | علامہ قاری ظہور احمد فیضی
"شانِ معاویہ میں باطل روایات کا رد" Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Raddعلامہ قاری ظہور احمد فیضی کی ایک بے باک تحقیقی تصنیف ہے جو دورِ حاضر میں فضائل کے نام پر پھیلائی جانے والی موضوع (Fabricated) روایات کا علمی تعاقب کرتی ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو "ردِ ناصبیت" اور مستند تاریخِ اسلام کے متلاشی ہیں۔ اس میں الیاس قادری (امیر اہل سنت) اور اشرف آصف جلالی (کنز العلماء) کے علمی دعاوی کا مدلل علمی رد موجود ہے۔






Reviews
There are no reviews yet.