“مقدمہ سیرۃ الرسول ﷺ (حصہ دوم)” has been added to your cart. View cart
Muhayuddin Ibn Al Arabi Hayat o Aasar محی الدین ابن عربی | حیات و آثار
₨1,000.00
Category: Biography Books in Urdu & English
Tags: Biography, BOOKS, Culture, Discounted, ibn e arabi, Muhayuddin Ibn Al Arabi, Tasawwuf, translation, urdu
Description
محی الدین ابن عربی حیات و آثار
تالیف: ڈاکٹر محسن جہانگیری
اردو ترجمہ: جناب احمد جاوید
ڈاکٹر سہیل عمر
فاطمہ بنتِ ابنِ المثنٰی قرطبی:ان کا قیام اشبیلیہ میں تھا۔جب میری اُن سے پہلی ملاقات ہوئی تو وہ تقریباً نوے (٩٠) برس کی تھیں۔
لوگ اُن کے گھر کے با ہر جو کوڑا کرکٹ پھینک کر جاتے وہ اُسی میں سے اپنی خوراک تلاش کر کے کھا لیا کرتی تھیں۔اگرچہ
وہ بہت بوڑھی اور خوراک بھی کم تھی لیکن اُن کا چہرہ اتنا ترو تازہ اور سرخ تھا جیسا عموماًجوان لڑکیوں کا ہوتا ہے،مجھے اُن
کے پاس بیٹھتے ہوئے حیا آتی تھی۔ قرآن حکیم کی تلاوت کرنا اُن کا معمو ل تھا،خصوصاً سورة فاتحہ کی تلاوت کثرت سے کرتیں،
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اس سورة پر مامور کر دیا گیا ہے،اور اس کی بدولت جوحیرت انگیز قوت نصیب ہوئی اُس کا استعمال میں
حسبِ منشا کر سکتی ہوں۔
مجھے محسوس ہوا کہ اُن کی خستہ حال کُٹیااب اس قابل نہیں رہی کہ اُس میں کوئی رہ سکے چنانچہ میں نے اپنے دو قریبی احباب
کے ساتھ مل کر اُن کے لیے ایک چھپر نُما مضبوط کمرہ تعمیر کردیا،تا کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی آرام سے بسر کر سکیں۔وہ اکثر
کہا کرتی تھیں کہ مجھ سے آج تک جتنے لوگ ملنے آئے اُن میں سے ابن ِ عربی نے زیادہ متاثر کیا۔جب اُن سے وجہ پوچھی گئی تو کہا:
دوسرے لوگ میرے پاس اپنی جزوی شخصیت لیکر آتے ہیں،وہ ادھورے ہوتے ہیںیا اپنے آپ میں نہیں ہوتے۔لیکن ابن ِ عربی کی شخصیت
بھرپور اور مکمل ہے،اسی لیے مجھے اس کے آنے پر تسکین ملتی ہے۔ابن ِ عربی جب آتا ہے تو اپنی ذات کو اِدھر اُدھر بکھیرتا نہیں بلکہ
سمیٹ کر رکھتا ہے۔اس کا اٹھنا اور بیٹھنا مکمل ہے۔وہ میرے پاس آتے ہوئے اپنے باطن کا تمام سرمایہ ساتھ لے کر آتا ہے،اور ایک روحانی
شخص کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔”
خدا کا اُن پر بڑا انعام تھاگو کہ اُن کے لیے دنیاوی جاہ وحشم حاصل کرنا کچھ مشکل نہ تھا،لیکن فقر کو خود پر ایسا طاری کیا کہ دنیا کی ہر
شئے بے معنی ہو کر رہ گئی۔خدا کے عشق میں سر تا پا غرق رہنا اُن کی زندگی کا اصل نصب العین تھا۔ میں نے اکثر اُن سے کہتے سُنا ہے:
” مجھے اُن لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو خدا سے دوستی کا دم بھرتے ہیں مگرپھربھی رونا روتے ہیں،اُس کی دید سے شاد نہیں ہوتے،حالانکہ
وہ تو ہمہ وقت اُن کے سامنے ہے اور پل بھر کوبھی اُن کی آنکھوں سے اوجھل نہیں،آخر یہ گریہ کنند گان کس منہ سے اُس کی محبت کا دعویٰ
کرتے ہیں ! کیا اُنھیں حیا نہیں آتی؟یہ خدا کے دوست نہیں ہیں؟محبت کرنے والوں سے بڑھ کر اُن کے محبوب سے اور کون قریب ہو سکتا ہے
!یہ کس لیے آہ و زاری کر تے ہیں؟یہ ایک عجوبہ ہے”
حوالہ ڈاکٹر محسن جہانگیری کی فارسی تصنیف ”محی الدین ابن عربی، احوال و آثار”
Reviews (0)
Be the first to review “Muhayuddin Ibn Al Arabi Hayat o Aasar محی الدین ابن عربی | حیات و آثار” Cancel reply






Reviews
There are no reviews yet.