Mulla Nasruddin ملانصر الدین | داستان خواجہ بخارا کی | لیونید سولوویف

600.00

Description
ملانصر الدین | داستان خواجہ بخارا کی | لیونید سولوویف
مترجم: حبیب الرحمٰن

یہ زندہ دل اور حاضر جواب شخص جو ہمیشہ سخت سے سخت ناامیدی سے بھی نکلنے کا راستہ تلاش کر لیتا ہے
اور افسردہ رہ ہی نہیں سکتا کون ہے، اس کے دنیا میں بہت سارے جواب پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس کا بہترین جواب
خود اسی سیاہ ڈاڑھی، تیز چالاک آنکھوں اور سانولے چہرے والے شخص کا جواب ہے:
محترم لوگو! میں ٹھہرا خواجہ نصرالدین ، بے چینی پھیلانے اور نفاق کے بیج بونے والا، ایسی ہستی جس کے سر پر
بہت بڑا انعام ہے۔ ہر روز نقیب عام جگہوں اور بازاروں میں میرے بارے میں اعلان کرتے پھرتے ہیں۔ کل وہ تین ہزار
تومان انعام کا اعلان کر رہے تھے اور مجھے لالچ لگا کہ میں اس قیمت پر خود اپنا سر بیچ دوں___‘‘
آپ ہنس رہے ہیں، قارئین __ لیکن آپ اس وقت اور بھی ہنسیں گے جب آپ کو علم ہو جائے کہ خلیفۂ بغداد نے خواجہ
نصر الدین کا سر قلم کرا دیا۔ ترکی کے سلطان نے انہیں نکیلے ستون پر بٹھایا اور خیوا کا خان پہلے ہی ان کی کھال کھنچوا
چکا تھا۔ رہا مرکز کائنات اور جہاں پناہ امیر بخارا تو خواجہ نصر الدین نے اس کا بھی آرام اور نیند حرام کر دی اور اس کے
خزانے کو ’جائز‘ منافعوں سے محروم کر دیا۔ آخر کار اس نے بھی خواجہ نصرالدین کو سزا دے دی، بورے میں بند کر کے
پانی میں ڈبو دیا___
بے چینی پھیلانے اور نفاق کے بیج بونے والے کی غیرمعمولی سرگزشت اور کارناموں سے متعلق ان سب اور دوسرے بہت
سے اور بھی زیادہ حیران کن اور ناقابل قیاس واقعات کی تفصیل، روسی ادیب لیونید سولوویف (1906ء ۔ 1962ء) نے معتبر
اہل علم سے معلومات حاصل کر کے ہمارے لیے مرتب کی ہیں۔ سولوویف دانش و حکمت کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں جن
میں زیرنظر کتاب بہترین تصور کی جاتی ہے۔

کچھ مصنف کے بارے میں:

لیونید سولوویف
(19 اگست، 1906 – 9 اپریل،1962 )
لیونید واسلے وچ سولوویف ایک روسی مصنف اور ڈراما نگار تھا۔ لیونید سولوویف 19 اگست 1906ء میں طرابلس،
شام (موجودہ لبنان) میں پیدا ہوا، جہاں اس کے والد روسی قونصل خانے میں ملازم تھے۔ لیوند سولوویف پیشے کے
لحاظ سے نامہ نگار صحافی اور ازبک زبان میں مہارت رکھتا تھا۔ اس نے ازبک زبان میں تاشقند کے ایک اخبار
’پراودا وسٹوکا‘ کے نامہ نگار کے طور پر لکھنے کا آغاز کیا۔ اس کی ابتدائی کہانیاں سینٹرل ایشیا اور مشرق وسطی
کے اخباروں میں شائع ہوئیں۔ مختصر کہانیوں کے بھی کئی مجموعے اس کی زندگی ہی میں شائع ہوئے۔ جنگِ عظیم
دوئم کے دوران بحریہ میں رہا اور سیاسی وجوہ کی بنا پر قید بھی ہوا۔ اس کی کتاب ’’ملا نصرالدین-داستان خواجہ بخارا
کی‘‘ سے اسے کافی شہرت ملی ۔ یہ کتاب امریکا میں
1- “Disturber of The Peace;
The Tale of Hodja Nasreddin” (1940)
2- “Beggar in The Harem” (1956)
3- “The Enchanted Prince:
Book Two of the Adventures of Khoja Nasreddin” (1957)
کے عنوانات سے بالترتیب شائع ہوئی۔ اس کا پہلی مرتبہ اُردو ترجمہ حبیب الرحمٰن نے 1966ء میں سوویت یونین
کے ادارہ ’رادوگا‘ اشاعت گھر، تاشقند کے لیے کیا۔ اس داستان میں مُلانصرالدین کی سوانح کے ایک گوشے کے
توسط سے بہت اعلیٰ سیاسی و معاشرتی طنز ملتا ہے جس سے آج کے دَور میں بھی ہم کماحقہ، لُطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

Reviews (0)

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Mulla Nasruddin ملانصر الدین | داستان خواجہ بخارا کی | لیونید سولوویف”

Your email address will not be published. Required fields are marked *