Allama Zahoor Ahmed Faizi
Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Radd | علامہ قاری ظہور احمد فیضی
"شانِ معاویہ میں باطل روایات کا رد" Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Raddعلامہ قاری ظہور احمد فیضی کی ایک بے باک تحقیقی تصنیف ہے جو دورِ حاضر میں فضائل کے نام پر پھیلائی جانے والی موضوع (Fabricated) روایات کا علمی تعاقب کرتی ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو "ردِ ناصبیت" اور مستند تاریخِ اسلام کے متلاشی ہیں۔ اس میں الیاس قادری (امیر اہل سنت) اور اشرف آصف جلالی (کنز العلماء) کے علمی دعاوی کا مدلل علمی رد موجود ہے۔
الصحابہ والطُلقاء (صحابہ اور طلقاء) – Sahaba aur Tulaqa by Qari Zahoor Ahmed Faizi
- کتاب کی نمایاں خصوصیات:
- علمی و تحقیقی مطالعہ: صحابیت کے درجات اور "طلقاء" کی شرعی حیثیت پر ایک مفصل اور مدلل تحقیقی دستاویز۔
- قرآن و سنت سے استدلال: سورۃ الانفال، سورۃ الفتح اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں صحابہ کرامؓ کے حقیقی مقام کی وضاحت۔
- صحابہ و تابعین کے آثار: سیدنا ابن عباسؓ، سیدنا علیؓ اور دیگر اکابر صحابہ و تابعین کے مستند اقوال سے طلقاء اور صحابہ کے درمیان فرق کی نشاندہی۔
- مغلطات کا ازالہ: "نفسِ صحابیت میں سب برابر ہیں" جیسے عام مگر علمی طور پر کمزور جملوں کا محققانہ محاسبہ۔
- تاریخی حقائق کی درستی: مکار بادشاہوں اور علمائے سو کی جانب سے مسخ شدہ تاریخ کے پردے چاک کر کے حقائق کو اصل شکل میں پیش کرنے کی کوشش۔
- سابقون اولون کی فضیلت: ہجرت، نصرت اور معیتِ مصطفیٰ ﷺ میں سبقت لے جانے والے نفوسِ قدسیہ کے خصوصی اعزازات کا بیان۔
- سادہ اور سلیس زبان: مشکل اور پیچیدہ علمی مباحث کو عام فہم اور سادہ اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے تاکہ ہر قاری مستفید ہو سکے۔
- حوالہ جات سے مزین: ہر دعوے اور تاریخی واقعے کے لیے مستند کتب کے حوالے اور عربی عبارات (اعراب کے ساتھ) شامل کی گئی ہیں۔
LIBRARY STOCK
PST-JEST Teacher Guide 2021 Edition By Ahmed Najib Caravan
Sunan Ibn e Majah (5 Vol. Set)
اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔




