allama-iqbal-k-qurani-afkar
Allama Iqbal k Qurani Afkar Original price was: ₨1,300.00.Current price is: ₨1,000.00.
Back to products

الصحابہ والطُلقاء (صحابہ اور طلقاء) – Sahaba aur Tulaqa by Qari Zahoor Ahmed Faizi

Original price was: ₨3,500.00.Current price is: ₨3,000.00.

  1. کتاب کی نمایاں خصوصیات:
  2. علمی و تحقیقی مطالعہ: صحابیت کے درجات اور “طلقاء” کی شرعی حیثیت پر ایک مفصل اور مدلل تحقیقی دستاویز۔
  3. قرآن و سنت سے استدلال: سورۃ الانفال، سورۃ الفتح اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں صحابہ کرامؓ کے حقیقی مقام کی وضاحت۔
  4. صحابہ و تابعین کے آثار: سیدنا ابن عباسؓ، سیدنا علیؓ اور دیگر اکابر صحابہ و تابعین کے مستند اقوال سے طلقاء اور صحابہ کے درمیان فرق کی نشاندہی۔
  5. مغلطات کا ازالہ: “نفسِ صحابیت میں سب برابر ہیں” جیسے عام مگر علمی طور پر کمزور جملوں کا محققانہ محاسبہ۔
  6. تاریخی حقائق کی درستی: مکار بادشاہوں اور علمائے سو کی جانب سے مسخ شدہ تاریخ کے پردے چاک کر کے حقائق کو اصل شکل میں پیش کرنے کی کوشش۔
  7. سابقون اولون کی فضیلت: ہجرت، نصرت اور معیتِ مصطفیٰ ﷺ میں سبقت لے جانے والے نفوسِ قدسیہ کے خصوصی اعزازات کا بیان۔
  8. سادہ اور سلیس زبان: مشکل اور پیچیدہ علمی مباحث کو عام فہم اور سادہ اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے تاکہ ہر قاری مستفید ہو سکے۔
  9. حوالہ جات سے مزین: ہر دعوے اور تاریخی واقعے کے لیے مستند کتب کے حوالے اور عربی عبارات (اعراب کے ساتھ) شامل کی گئی ہیں۔
Description

باعث تالیف کتاب صحابہ اور طلقاء از علامہ قاری ظہور احمد فیضی 

کتاب ہذا کی تالیف کا باعث مذہبی معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کر ناہے ، جو بد قسمتی سےنواصب زمانہ کے چند سکوت شکن جملوں کی وجہ سے برباد ہو چکی ہے ، اور وہ جملے یہ ہیں :نفس صحابیت میں سب برابر ہیں‘‘۔یہ جہالت پر مبنی ، گمراہ کن اور کتاب وسنت کے خلاف جملہ ہے۔ اس لیے کہ صحابیت عملی اور کسبی چیز ہے ، نبوت کی طرح ایسی عطائی اور وہبی چیز نہیں جو پیدائشی طور پر انسان کے اندر رکھدی جاتی ہے۔ چنانچہ یہ نظیر تو پیش کی جاسکتی ہے کہ پہلے دن کے بچے نے کہا: میں نبی ہوں ، لیکن یہ مثال پیش نہیں کی جاسکتی کہ پہلے دن کے بچے نے خود کہا ہو کہ میں صحابی ہوں ، یا پہلے دن کے بچےکے بارے میں کسی اور نے کہا ہو کہ وہ صحابی ہے۔ لہذا جس طرح نفس نبوت میں سب انبیاء کرام علیم برابر ہوتے ہیں اسی طرح نفس صحابیت میں سب لوگ برابر نہیں ہوتے ، بلکہ جس انسان نے (خواہوہ مذکر ہو یا مؤنث ) اپنی رضاور غبت سے دوسرے انسان کی بہ نسبت بار گاہ نبوت میں حاضر ہونے   میں سبقت کی وہ اتناہی دوسرے کی بہ نسبت بڑا صحابی ہے۔ نیز اگر دوانسان بیک وقت بار گاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو کر مسلمان ہوۓ اور پھر ان میں سے ایک صاحب نے اپنی دلی رغبت سے صحبت نبویکے لمحات زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی کوشش کی تو اس کی صحابیت بھی بقدر صحبت دوسرے ساتھی کی بہ.نسبت زیادہ ہو گی اور اس کے پاس نبوی علم وفیض بھی دوسرے کی بہ نسبت زیادہ ہو گا۔

راقم نے کتاب ہذا میں حتی امکان اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا بلکہ صحابہ تابعین اور دیگر اکابر کے اقوال و عبارت کی روشنی میں صحابہ وطلقاء کا فرق پیش کیا ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور طلقاء میں سے کن کا عمل قابل اسوہ ہے اور کن کا نہیں۔اکابر کے اقوال و عبارت سے یہ حقیقت واضح بھی ہوئی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں انے والے کچھ حضرات سے دو خطا ہوئی تھی اور پھر انہیں توبہ ورجوع کی سعادت بھی حاصل ہو گئی تھی،کچھ سفہاء (احمق) قسم کے لوگ بھی مد مقابل ائے تھے جبکہ کچھ لوگ صرف اور صرف دنیا اور حصول اقتدار کی خاطر لڑے تھے۔ان کا مقابلہ خطا یا خطا اجتہادی نہیں تھا بلکہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ،سیدنا علی،سیدنا عمار بن یاسر اور دوسرے صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کی تصریحات کے مطابق وہ تنافس فی دنیا (حب دنیا) کاشی کار تھے۔اسی لیے کتاب و سنت کی روشنی میں ان کا دور اقتدار اہل اسلام کے لیے قابل نمونہ نہیں رہا۔البتہ دنیا پرست بادشاہ ہر دور میں اپنے ناجائز اقتدار کو تول دینے کے لیے ان کا دم بھرتے رہتے رہے اور اپنے مفاد کی خاطر جھوٹی روایت اصحاب کاالنجوم”کہ نعرے سے عامۃ الناس کو دھوکہ دیتے رہے اور اج تک دے رہے ہیں. یہی وجہ ہے کہ مسلمان بادشاہوں نے زیادہ تر بعض طلقاء کے جھوٹے فضائل پر کتابیں لکھوائی تاکہ امت الناس اس فریب کا شکار رہیں کہ چشم بدور ان کے سلاطین دراصل صحابہ کے پیروکار ہیں۔

افسوس کہ اہل اسلام کی اکثریت ایسے مکار بادشاہ ہوں اور علمائے سوک اس چال کو کبھی نہیں بھانپ سکی یہی وجہ ہے کہ قران حکیم میں جا بجا لوگوں کی اقلیت کے بارے میں نہیں بلکہ ان کی اکثریت کے بارے میں آیا ہے ” اكثرهم لا يعلمون،اكثرهم لا يعقلون” سوچ چونکہ لوگوں کی اکثریت” الناس على دين ملوكهم”کے مطابق بادشاہوں اور علماء سو کے جال میں پھنسی رہتی ہے اس لیے ہر دور میں حقائق بیان کرنے والوں کی اواز کو حقائق سے نہ اشنا پبلک کی اکثریت کے ذریعے دبا کر نہ صرف باطل خود کو حق پر باور کرانے میں کامیاب رہا اور رہتا ہے بلکہ حق کی اواز کو دبانے میں بھی کامیاب رہتا ہے۔

صحابی کی قرانی تعریف
واضح رہے کہ قران مجید میں لفظ صحابی یا صحابہ سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی متح و تعریف یا تعارف نہیں کرایا گیا لفظ صحابہ کے بجائے ان کے اعمال صفات ان کے ایثار و قربانی کے حوالے سے ان کا ذکر ایا مثلا سورۃ الانفال میں ارشاد باری تعالی ہے:
والذين امنوا وهاجروا وجاهدوا في سبيل الله والذين اذوا ونسروا اولئك هم المؤمنون حقا لهم مغفره ورزق كريم. والذين امنوا من بعده وهاجروا وجاهدوا معكم فاولئك منكم.
اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کی ا رہا ہے خدا میں اور جنہوں نے پناہ دی اور ان کی امداد کی وہی لوگ سچے ایماندار ہیں انہی کے لیے بخشش ہیں اور باعزت روزی اور جو لوگ ایمان لائے بعد میں اور ہجرت بھی کی اور جہاد بھی کیا تمہارے ساتھ مل کر تو وہ بھی تم ہی میں سے ہیں ۔
ان میں پہلی ایت میں سبقت کرنے والا کا ذکر ہے اور دوسری ایت میں ایمان میں بعد والوں مگر ہجرت و جہاد میں سابقین کے ساتھ شامل ہونے والوں کا ذکر ہے تقدیم و تاخیر کے ساتھ یہ دونوں گروہ مہاجرین ہیں اور (والذين أووا ونصروا) جنہوں نے ان کو پناہ دی اور مدد کی) میں انصار کا ذکر ہے. غور فرمائیے ان ایات میں مطلقا صحابہ کا ذکر نہیں ہے بلکہ فقط سابقین بالایمان مہاجرین و انصار کا ذکر ہے. یہ سورت دو ہجری میں بدر کے ایام میں نازل ہوئی اس لیے بعض مفسرین نے اس کو مدنی اور بدری صورت بھی کہا ہے لہذا ان ایات میں بعد والوں کی فضیلت کا ذکر نہیں ہے. اسی طرح اس کی چوتھی ایت میں (اولئك هم المؤمنون حقا) کے الفاظ سے جن اہل ایمان کی توصیف و تعریف کی گئی ہے وہ بھی یہی سابقون اولون ہیں نہ کہ اگلے پچھلے سب۔اگر(جاهدوا معكم فاولئك منكم) کے الفاظ کو سورہ فتح کی اخری ایت کے ساتھ (والذين معه اشداء علی الكفار) کے ساتھ ملا کر غور کیا جائے تو معیت مصطفی کا تمغہ ان خوش بختوں پر سجا ہوا نظر اتا ہے جو بدر سے لے کر بیت رضوان تک میں شامل ہیں اور حقیقی معیت ہی کا دوسرا نام صحابیت ہے۔زبان رسالت ماب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بھی یہی حقیقت ثابت ہے کہ فتح حدیبیہ کے بعد ایمان لانے والے لوگ مہاجر ہیں اور نہ ہی انصار بلکہ وہ تابعی بالاحسان ہیں۔الغرض قران مجید کے مطابق معیت والے فقط مہاجرین و انصار ہیں اور وہی صحابہ ہیں باقی الناس اور طلقاء ہیں۔

بَابُ الطُّلَقَاء

طُلَقَاء کی وجہِ تسمیہ

اعلانِ نبوت سن کر طوعاً اور قلباً اسلام قبول کرنے والے اہل اسلام کو اگرچہ ایک ہی لفظ سے صحابہ کہہ دیا جاتا ہے مگر جلد یا دیر سے اسلام لانے کی وجہ سے، ہجرت کرنے اور ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے اور کسی اہم مہم و معرکہ میں شامل ہونے یا شامل نہ ہو سکنے کی وجہ سے اُن کی الگ الگ شناخت ہے۔ مثلاً قبل از صلح حدیبیہ مکہ یا کسی اور مقام کا باشندہ مسلمان تو ہو چکا تھا، مگر وہ بلا عذر ہجرت کر کے بارگاہِ نبوی ﷺ میں نہ آسکا تھا، تو وہ مہاجر نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مدینہ کا باشندہ صلح حدیبیہ تک اسلام سے محروم رہا اور کہیں سے بھی ہجرت کر کے آنے والے اہل اسلام کی عملی خدمت و نصرت نہ کر سکا، تو وہ انصاری کہلانے کا حق دار نہیں ہے۔ الغرض مختلف صحابہ کو جن الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے اُن الفاظ کا لغوی معنیٰ الگ ہے اور شرعی شناخت و اصطلاح الگ ہے۔ چنانچہ لغوی معنیٰ میں ہر وہ انسان مہاجر ہے جو ایک مقام سے کوچ کر کے دوسرے مقام پر سکونت اختیار کرلے، مگر شرعی اصطلاح میں مہاجر فقط وہ ہے جو صلح حدیبیہ سے پہلے طوعاً اسلام قبول کر کے بارگاہِ نبوی ﷺ میں پہنچا ہو۔ غرضے کہ: ۱۔ مہاجر ہونا ایک اعزاز بھی ہے اور شناخت بھی ۲۔ سابقون اولون ہونا ایک شرعی شناخت و اعزاز ہے ۳۔ انصار میں سے ہونا ایک شرعی شناخت اور اعزاز ہے ۴۔ بدری ہونا ایک اعزاز اور امتیاز ہے ۵۔ ذوالقبلتین میں سے ہونا ایک اعزاز ہے ۶۔ اہل احد میں سے ہونا ایک اعزاز ہے ۷۔ اصحاب الشجرہ یا بیعتِ رضوان والا ہونا ایک اعزاز اور شناخت ہے۔

۸۔ اہل خیبر میں سے ہونا ایک اعزاز اور شناخت ہے ۹۔ اصحاب الخندق میں سے ہونا ایک اعزاز اور شناخت ہے ۱۰۔ فاتحینِ مکہ میں سے ہونا ایک اعزاز اور شناخت ہے۔ صلح حدیبیہ تک یہ سب اعزازات اور مختلف امتیازات ختم ہو گئے تھے، اور حدیبیہ کے بعد جو لوگ مسلمان ہوئے انہیں نبی کریم ﷺ نے “الناس” (لوگ) قرار دیا اور ان سے ماقبل مسلمانوں کو “أَصْحَابِي” (اپنے صحابہ) فرمایا، جیسا کہ متعدد احادیثِ نبویہ کی روشنی میں بیان کیا جا چکا ہے۔ فتح مکہ کے بعد جو لوگ مجبوراً مسلمان ہوئے تھے، وہ مذکورہ بالا تمام اعزازات اور القابات و اصطلاحات سے محروم رہ گئے تھے، ایسے تمام لوگوں کو طلقاء کہا جاتا تھا۔ پھر طلقاء میں سے جن سے مستقبل میں کوئی خدشہ یا خطرہ تھا اور اُس سے بچنے کی خاطر انہیں مال دیا گیا تو انہیں طلقاء کے ساتھ ساتھ مؤلفۃ القلوب بھی کہا جاتا تھا۔ کسی شخص کا طلقاء میں سے ہونا ہی اس بات کی دلیل تھی کہ وہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوا ہے۔ قریش مکہ کے دن “نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن” کی کیفیت میں مبتلا ہو کر مجبوراً مسلمان ہوئے تھے، اور انہیں چونکہ غلام بنانے کی بجائے آزاد کر دیا گیا تھا، اس لیے انہیں طلقاء کہا گیا۔ چنانچہ ابن اثیر جزری، ابن منظور افریقی اور ابو موسیٰ اصفہانی وغیرہ لکھتے ہیں: “وَفِي حَدِيْثِ حُنَيْنٍ: خَرَجَ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ، هُمُ الَّذِيْنَ خُلِّيَ عَنْهُمْ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَأُطْلِقُوْا.” “غزوہ حنین کی حدیث میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ تشریف لے گئے تو آپ کے ساتھ طلقاء (بھی) تھے، یہ وہ لوگ ہیں جن سے فتح مکہ کے دن آپ ﷺنے درگزر کیا تھا اور انہیں آزاد کر دیا تھا۔” علامہ صالحی شامی لکھتے ہیں: “الطُّلَقَاءُ: بِضَمِّ الطَّاءِ الْمُهْمَلَةِ وَفَتْحِ اللَّامِ: الَّذِيْنَ أَسْلَمُوْا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ مِنْ أَهْلِهَا مِمَّنْ غَلَبَهُمْ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَأَطْلَقَهُمْ.” “طُلَقاء: سے مکہ کے وہ لوگ مراد ہیں جو فتح مکہ کے دن اسلام لائے، جن پر رسول اللہ ﷺ نے غلبہ پالیا تھا اور انہیں آزاد کر دیا تھا۔” علامہ محمد طاہر پٹنی ہندی اور علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں: “طلقاء قریش کے وہ لوگ ہیں جو فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو لونڈی غلام نہیں بنایا، اُن کے اسلام میں ضعف تھا۔”

صحابہ اور طلقاء: دو الگ الگ اصطلاحیں

ظاہری حیاتِ نبوی ﷺ میں فتح مکہ سے پہلے طوعاً اسلام قبول کرنے والوں اور فتح مکہ کے بعد کرہاً (بادلِ نخواستہ) اسلام لانے والوں کے لیے الگ الگ دو اصطلاحیں تھیں۔ اول الذکر حضرات کو “صحابہ” اور ثانی الذکر لوگوں کو “طُلَقاء” کہا جاتا تھا۔ حالانکہ لغوی لحاظ سے تو طلقاء پر بھی صحابہ کا اطلاق درست ہے، لیکن شرعی اصطلاح میں یعنی عِند الرسول اور عِند الصحابہ طلقاء پر صحابہ کا انطباق جائز نہیں۔ چنانچہ کسی بھی مسئلے اور معاملے میں اگر صحابہ کے ساتھ طلقاء بھی شامل ہوتے تو اُن کو لفظ صحابہ میں شامل نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ اُن کے لیے ایک الگ لفظ “طلقاء” استعمال کیا۔

جاتا تھا۔ آئیے! اس بارے میں احادیث و آثار ملاحظہ فرمائیے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے طلقاء کی اصطلاح

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے معاویہ کے متعلق بخاری میں نمازِ وتر کی ایک رکعت کے ضمن میں جو “صَحِبَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ” کے الفاظ آئے ہیں وہ لغوی لحاظ سے ہیں، جن کے استعمال کا اس وقت مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک رکعت وتر پڑھتے ہوئے دیکھا ہو۔ ورنہ شرعی اصطلاح میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معاویہ کو صحابی نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ معاویہ نے اُن کی طرف خلافت کے معاملے میں خط ارسال کیا اور اُس میں لکھا کہ اگر لوگ آپ کی بیعت کرتے تو ہم علی کی بجائے تمہاری بیعت کے لیے جلدی کرتے۔ اس کے جواب میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اُسے اُس کی اوقات یاد دلاتے ہوئے یوں لکھ بھیجا: “وَإِنَّ الْخِلَافَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِمَنْ كَانَ فِي الشُّوْرٰی مِمَّنْ سَمَّاهُ عُمَرُ، فَمَا أَنْتَ وَالْخِلَافَةَ يَا مُعَاوِيَةُ! وَأَنْتَ طَلِيْقُ الْإِسْلَامِ، وَابْنُ رَأْسِ الْأَحْزَابِ، وَابْنُ آكِلَةِ الْأَكْبَادِ؟” “خلافت فقط ان لوگوں کے شایانِ شان ہے جن کا نام سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) کی مقرر کردہ شوریٰ میں تھا۔ پس اے معاویہ! تمہارا اور خلافت کا کیا جوڑ؟ تم اسلام کے طلیق (آزاد شدہ) ہو، غزوہ احزاب میں کفر کے سرغنہ کے بیٹے ہو اور جگر خوارہ ہند کے زائیدہ ہو۔”

### *New Book Release: A Journey into Islamic History & Research* 📚

Are you looking to understand the true historical distinctions within the early Muslim community?

We are proud to present *”As-Sahaba wal Tulaqa” (The Companions and the Freedmen)* by the renowned scholar *Qari Zahoor Ahmed Faizi*. This book is a vital contribution to religious literature, aiming to restore peace and clarity by addressing significant historical misconceptions.

*Why this book is a must-read:*

* *Understanding Ranks:* It challenges the notion that all Sahabiyat (Companionship) is equal in rank, explaining that it is a *Kasbi* (earned through action) merit rather than a *Wahbi* (naturally gifted) one.
* *The Concept of Sabqoon-ul-Awwalun:* Learn about the immense spiritual and historical status of those who embraced Islam early and participated in the *Hijrah* (Migration) and *Nusrah* (Support).
* *The Status of Tulaqa:* A detailed academic look at the *Tulaqa* (those freed after the Conquest of Makkah) and how their status differs from the *Sabiqun* (the trailblazers of faith).
* *A Call for Truth:* The author uses authentic references from *Akabir* (Great Scholars) and *Tabi’un* to distinguish between those who fought for the *Deen* and those influenced by *Tanafus fid-Dunya* (worldly competition).

This is not just a book; it is an academic shield against misinformation, designed to provide the *Ummah* with a clear vision of our sacred past.

📍 *Order Your Copy Now!*
🌐 Visit: kitabrekhta.com
📞 WhatsApp: *0321-1788887*

#IslamicHistory #NewBook #Sahaba #QariZahoorAhmedFaizi #IslamicResearch #KitabRekhta #HistoryOfIslam

Additional information
Authors

Qari Zahoor Ahmed Faizi

Reviews (0)

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “الصحابہ والطُلقاء (صحابہ اور طلقاء) – Sahaba aur Tulaqa by Qari Zahoor Ahmed Faizi”

Your email address will not be published. Required fields are marked *