علمائے فرنگی محل – آثار الاول من علماء فرنگی محل – قیام الدین عبد الباری فرنگی محلہ
۔27 مارچ 1692ء کو قصبہ سہالی (بارہ بنکی، اتر پردیش) کے کچھ شرپسندوں نے اپنے وقت کے بے نظیر
عالم معقولات و منقولات ملا قطب الدین سہالوی کو اُس وقت محل سرا میں گھس کر بے دردی سے شہید کردیا
جب وہ درس و تدریس میں مصروف تھے۔ ملا قطب الدین کی شہادت کے بعد بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے جو
ملا قطب الدین کی علمی لیاقت اور دینی خدمات سے بہت متاثر تھا، ملا صاحب کے صاحب زادگان
(ملا محمد اسعد، ملا محمد سعید) کی خواہش پر لکھنؤ میں فرانسیسی تاجروں کی ایک خالی کوٹھی1694ء میں انھیں الاٹ کردی۔ یہ کوٹھی
’’حویلی فرنگی‘‘ کہلاتی تھی اور سرکاری ملکیت کا حصہ تھی۔ اس طرح ملا قطب کا لٹا ہوا مختصر کنبہ سہالی سے ہجرت کرکے یہاں
آبسا۔ یہاں سے خانوادہ ملا قطب کی نئی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے، جسے آگے چل کر ’’خانوادہ فرنگی محل‘‘ کے نام سے پوری دنیا میں جانا گیا۔






Reviews
There are no reviews yet.