Imam Zaid bin Ali
₨1,200.00 Original price was: ₨1,200.00.₨999.00Current price is: ₨999.00.
امام زید بن علی شہید کی سوانح، علمی جلالت اور فقہی آراء کا تحقیقی جائزہ۔ اس میں خلفائے راشدین (ابوبکرؓ و عمرؓ) کے بارے میں آپ کے معتدل موقف، امام ابو حنیفہ سے علمی تعلق اور بنو امیہ کے خلاف آپ کی عظیم شہادت کے المناک واقعات کو مفصل بیان کیا گیا ہے۔
Imam Zaid bin Ali: A Scholarly Analysis of Jurisprudence, Reform, and the Umayyad Legacy
امام زید بن علی شہید علیہما السلام کا تعارف و پس منظر
امام زید بن علی (علیہ السلام) تاریخِ اسلام کی وہ قد آور شخصیت ہیں جن کا نام علم، شجاعت اور اصلاحِ معاشرہ کا استعارہ بن چکا ہے。 آپ کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ کی علمی و روحانی تربیت آپ کے والد امام زین العابدین نے کی، جنہیں ان کی کثرتِ عبادت کی بنا پر “زین العابدین” اور “شبِ چراغ” کہا جاتا تھا。 امام زید کی زندگی کا مقصد قرآن کی اس آیت (۹:۱۱۱) کی عملی تفسیر بننا تھا جہاں اللہ نے مومنوں کی جانوں کا سودا جنت کے بدلے کیا ہے。
خلفائے راشدین (ابوبکرؓ و عمرؓ) کے بارے میں معتدل آراء
امام زید بن علی کا سب سے بڑا امتیاز ان کا وہ معتدل سیاسی اور مذہبی نظریہ ہے جس نے امتِ مسلمہ کو فرقہ وارانہ خلیج سے بچانے کی کوشش کی。
امامتِ مفضول:
آپ نے یہ نظریہ پیش کیا کہ حضرت علیؑ بلاشبہ سب سے افضل (Afdal) تھے، لیکن حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی خلافتیں بھی مکمل طور پر شرعی اور جائز تھیں。
شیخین کا احترام:
آپ ان دونوں جلیل القدر خلفاء کو اپنے نانا ﷺ کے معزز ساتھی قرار دیتے تھے اور ان کے بارے میں کسی بھی نازیبا کلمات کی سختی سے ممانعت فرماتے تھے。
رافضی گروہ کا ظہور:
جب کوفہ کے ایک گروہ نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ ان خلفاء سے برات کا اعلان کریں، تو آپ نے جرأت کے ساتھ انکار کر دیا。 اس کے نتیجے میں وہ گروہ آپ کو چھوڑ کر چلا گیا، جسے آپ نے “رافضی” (ٹھکرانے والے) کا نام دیا。
علمی مقام اور فقہی خدمات
آپ کی فقہی بصیرت کا عالم یہ تھا کہ امام ابو حنیفہ آپ کے شاگردوں میں شامل تھے اور وہ آپ کے اصلاحی مشن کی اس قدر حمایت کرتے تھے کہ اسے “غزوہ بدر” جیسی مشروعیت دیتے تھے。 زیدی فقہ، جو “المجموع الفقہی” میں مدون ہے، عقل، قرآن کی مرکزیت اور سنتِ نبوی پر استوار ہے اور یہ اہل سنت و اہل تشیع کے درمیان ایک علمی پل کا کام کرتی ہے。
قیام اور شہادت کا المناک انجام
امام زید نے اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے جبر اور غیر اسلامی طرزِ عمل کے خلاف ۱۲۲ ہجری میں کوفہ سے قیام کا آغاز کیا。 آپ کا مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ حق کی سربلندی اور “امر بالمعروف” تھا。
شہادت اور سفاکیت:
میدانِ جنگ: آپ نے مٹھی بھر وفادار ساتھیوں کے ساتھ امویوں کی ایک بڑی فوج کا مقابلہ کیا، یہاں تک کہ ایک تیر آپ کی پیشانی پر لگا جو شہادت کا سبب بنا。
نبشِ قبر: دشمنوں نے آپ کے جسدِ مبارک کو بے حرمتی سے بچانے کی خاطر کی گئی خفیہ تدفین کا سراغ لگا لیا اور آپ کے جسم کو قبر سے نکال لیا。
سولی اور آخری بے حرمتی:
اموی حکام نے آپ کا سر قلم کر کے خلیفہ کو بھیجا اور آپ کے headless جسم کو کوفہ میں سرِ عام سولی پر لٹکا دیا، جہاں وہ سالہا سال عبرت کے لیے لٹکا رہا。 آخر کار، اس عظیم امام کی باقیات کو جلا کر راکھ دریا برد کر دی گئی。
امام زید بن علی کی یہ شہادت تاریخِ اسلام کا وہ المناک موڑ ہے جس نے نہ صرف بنو امیہ کے زوال کو یقینی بنایا بلکہ قیامت تک کے لیے مظلوموں کو ظالم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی عطا کیا。
Related products
FAZAIL E AHLE BAIT فضائل اہل بیت
Imam Hussain aur Waqia karbala pyas pyaar qurbani dastan
imam-hussain-waqia-karbala-pyas-pyaar-qurbani-dastan
حافظ ظفر اللہ شفیق کی یہ مایہ ناز تصنیف "امام حسینؑ اور واقعہ کربلا" حق و باطل کے اس عظیم معرکے کی ایک مستند دستاویزی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف واقعہ کربلا کے تاریخی حقائق کو مفصل بیان کیا گیا ہے بلکہ فضائلِ اہل بیت اور امام حسینؑ کی شہادت کے پسِ پردہ چھپے ان روحانی اسرار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے جو عام طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ اگر آپ مستند اسلامی کتب کے ذریعے کربلا کے پس منظر اور اہل بیتِ اطہار کے بلند درجات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو Kitabrekhta.com پر دستیاب یہ کتاب آپ کے لیے ایک بہترین علمی تحفہ ہے۔






Reviews
There are no reviews yet.