Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Radd | علامہ قاری ظہور احمد فیضی
₨1,600.00 Original price was: ₨1,600.00.₨1,400.00Current price is: ₨1,400.00.
“شانِ معاویہ میں باطل روایات کا رد” Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Raddعلامہ قاری ظہور احمد فیضی کی ایک بے باک تحقیقی تصنیف ہے جو دورِ حاضر میں فضائل کے نام پر پھیلائی جانے والی موضوع (Fabricated) روایات کا علمی تعاقب کرتی ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو “ردِ ناصبیت” اور مستند تاریخِ اسلام کے متلاشی ہیں۔ اس میں الیاس قادری (امیر اہل سنت) اور اشرف آصف جلالی (کنز العلماء) کے علمی دعاوی کا مدلل علمی رد موجود ہے۔
98 in stock
Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Radd شانِ معاویہ میں باطل روایات کا رد
کتاب کا جامع تعارف:
علامہ قاری ظہور احمد فیضی کی یہ تصنیف علمی حلقوں میں ایک تہلکہ خیز حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد ان باطل روایات کی حقیقت واضح کرنا ہے جنہیں “شانِ معاویہ” کے نام پر مروج کیا جا رہا ہے۔ مصنف نے اس میں ثابت کیا ہے کہ کس طرح دورِ جدید کی ناصبیت، اہل بیتِ اطہار علیہم السلام کی تنقیص کے لیے من گھڑت قصوں کا سہارا لے رہی ہے۔
کتاب کے اہم علمی اور تحقیقی پہلو:
ناصبیت اور موضوع احادیث کا فتنہ: مصنف نے احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا کتنا بڑا جرم ہے۔ تصاویر میں موجود فہرست کے مطابق، اس کتاب میں “اصحابی کالنجوم” جیسی روایات کی اسنادی حیثیت اور شرعی عذر کے بغیر طلاق جیسے حساس مسائل پر علمی گفتگو کی گئی ہے۔
فیضانِ امیر معاویہ اور الیاس قادری کا رد: امیرِ دعوتِ اسلامی مولوی الیاس قادری کی کتاب “فیضانِ امیر معاویہ” میں موجود اسنادی کمزوریوں اور موضوع روایات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ خاص طور پر میسون بنتِ بحدل کے حوالے سے گھڑے گئے فضائل کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔
اشرف آصف جلالی (کنز العلماء) کا علمی محاسبہ: ایوانِ اقبال لاہور کے سیمینار میں اشرف آصف جلالی کی جانب سے “حدیثِ مدینۃ العلم” میں کیے گئے مردود اضافے (معاویہ حلقتھا) کا ٹھوس علمی ابطال کیا گیا ہے۔ مصنف نے ثابت کیا ہے کہ محدثین اور نقادِ فن نے ان اضافوں کو کس طرح رد کیا ہے۔
محدثین اور ائمہ فن کے حوالہ جات: کتاب میں امام ذہبی، ابن حجر عسقلانی، امام عبدالبر، اور حافظ مغلطائی حنفی جیسے اکابرین کی آراء شامل ہیں۔ مصنف نے ابن ابی عمیرہ کی صحابیت کے مشکوک ہونے اور “اللہم اجعلہ ہادیا مہدیا” جیسی روایات کے موضوع ہونے پر مدلل بحث کی ہے۔
فہرستِ مضامین کے نمایاں عنوانات:
احادیثِ موضوعہ بیان کرنے پر وعیدِ شدید اور محدثین کا موقف۔
شانِ معاویہ میں کوئی حدیثِ صحیح نہیں ہے (ائمہ کے اقوال)۔
“معاویہ حلقتھا” کی روایت کی اصل حقیقت اور اس کے کذاب راوی۔
محبانِ معاویہ کے نزدیک حدیث گھڑنا جائز ہونے کا باطل نظریہ۔
بسر بن ابی ارطاۃ کے مظالم اور تاریخی حقائق۔
حدیث “انا مدینۃ العلم” پر مردود اضافے کا علمی جائزہ۔
مطالعہ کی اہمیت: یہ کتاب ان تمام قارئین کے لیے ایک انمول علمی تحفہ ہے جو روایتی جذباتی تقاریر کے بجائے اسماؤ الرجال اور فنِ حدیث کی روشنی میں حقائق کو پرکھنا چاہتے ہیں۔ کتاب ریختہ (Kitab Rekhta) پر یہ شاہکار علمی دستاویز اب آپ کے لیے دستیاب ہے تاکہ آپ دورِ جدید کے ناصبی فتنوں سے آگاہ ہو سکیں۔
کتاب کا تحقیقی جائزہ: شانِ معاویہ میں باطل روایات کا رد
علامہ قاری ظہور احمد فیضی کی یہ کتاب “Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Radd” محض ایک جواب نہیں بلکہ ایک تاریخی عدالت ہے جہاں باطل روایات کا علمی محاکمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں دورِ حاضر کے ان فتنوں کا تعاقب کیا گیا ہے جو فضائل کی آڑ میں تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔
سیدنا حجر بن عدیؓ کا ماورائے عدالت قتل اور تاریخی حقیقت: کتاب کا ایک نہایت اہم اور لرزہ خیز باب سیدنا حجر بن عدیؓ کی شہادت سے متعلق ہے۔ مصنف نے تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ کس طرح سیدنا حجر بن عدیؓ کو سیاسی بنیادوں پر ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ کتاب میں یہ بحث تفصیل سے موجود ہے کہ کیا حجر بن عدیؓ کے خلاف گواہی واقعی ثابت تھی؟ مصنف نے انکشاف کیا ہے کہ زیاد بن ابیہ نے جھوٹے گواہ تیار کر کے ان کے خلاف محضر نامہ تیار کروایا تھا۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی ناراضگی
اس واقعے کا سب سے حساس پہلو ام المومنین سیدہ عائشہؓ کا موقف ہے۔ کتاب میں علامہ سید مناظر احسن گیلانی اور علامہ سید سلیمان ندوی کے حوالے سے درج ہے کہ جب سیدہ عائشہؓ کو حجر بن عدیؓ کی گرفتاری اور شام بھیجے جانے کی اطلاع ملی تو انہوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے امیر معاویہ کو اس قتل سے روکنے کے لیے ایک قاصد کے ذریعے خط بھیجا، لیکن افسوس کہ جب تک قاصد پہنچا، انہیں شہید کیا جا چکا تھا۔ مصنف نے حضرت عائشہؓ کے اس قول کو بھی نقل کیا ہے جس میں انہوں نے معاویہ سے پوچھا تھا کہ: “حجر کے قتل کے معاملے میں تمہارا تحمل کہاں چلا گیا تھا؟”۔
| Authors |
Qari Zahoor Ahmed Faizi |
|---|






Reviews
There are no reviews yet.