Arfa Karim Randhawa
Asaan Tarjuma Quran By Dr. Israr Ahmed
- Writer:Dr. Israr Ahmed
- Category:Islam
- Pages:1216
Asahab e Kahaf Aur Yajooj Majooj
- Writer:Maulana Abul Kalam Azad
Views: 102
- Category:Islam
- Pages:93
- Availability:In Stock
Asfaar e Iqbal اسفار اقبال
Ash Shafis Risalaha Basic Ideas
Asma-e-Mustufa (SAW) | اسمائے مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
Asmaye ilahiyyai { كشف المعنى عن سر أسماء الله الحسنى}
Author: Shaykh al-Akbar Muhyiddin Ibn al-Arabi
Translated by: Abrar Ahmed Shahi
{للہ تعالیٰ فر ما تا ہے : (بیشک اللہ کے خو بصو رت نا م ہیں سو اِ ن نامو ں سے اُ سے پکا رو )، (الا عرا ف : 180)یہ اس با ت کی دلیل ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان اسما کو ہما رے لیے اپنی کتاب یا اپنے رسو ل ﷺ کی زبا نی متعین کر دیا ہے یہ ننا نو نے نا م ہیں جیسا کہ اس با ر ے میں ایک صحیح خبر ہے ۔
حق تعالیٰ کے اسما دو طرح کے ہیں : ایک وہ جو اُ س نے ہمیں سکھا ئے اور دو سرے وہ جو اس نے اپنے غیب کے علم میں چھپا ئے ، جنہیں اُ س کی مخلو ق میں کوئی نہیں جا نتا ، ایک صحیح حد یث کا یہی بیا ن ہے ۔
وہ اسما جو اُ س نے ہمیں سکھا ئے وہ بھی دو طرح کے ہیں : ایک وہ اسما جو خا ص پہچا ن کے لیے ہیں جیسے کہ اسم اللہ ۔ اور دو سرے وہ اسما جو اضا فی صفات کو بیا ن کر تے ہیں ، یہ وہ بھی دو طر ح کے ہیں : ایک وہ اسما جو صفاتِ تنز یہ پر دلا لت کرتے ہیں ، اور دو سرے وہ اسما جو صفاتِ افعا ل پر دلا لت کرتے ہیں ۔
بندے کا اسما ئے حق تعالیٰ سے تعلق ، تحقیق اور تخلیق کا رشتہ ہے تعلق اس حیثیت سے تیرا اِن اسماکا مطلق محتاج ہونا ہے جس (حیثیت )سے یہ ذا ت پر دلا لت کرتے ہیں ۔ تحیقق حق تعالیٰ کے لحاظ سے اور خود تیر ے لحا ظ سے ان کے حقیقی معا نی کا جا ننا ہے جبکہ تخلق یہ ہے کہ تو ان سے ویسے قائم ہو جو تیرے لا ئق ہے جیسا کہ یہ (اسما)اُ س پا ک ذا ت سے ویسے منسو ب کیے جاتے ہیں جیسا اُ س کے شایا ن شان ہے ۔}
Asmaye ilahiyyai { كشف المعنى عن سر أسماء الله الحسنى}
Author: Shaykh al-Akbar Muhyiddin Ibn al-Arabi
Translated by: Abrar Ahmed Shahi
{للہ تعالیٰ فر ما تا ہے : (بیشک اللہ کے خو بصو رت نا م ہیں سو اِ ن نامو ں سے اُ سے پکا رو )، (الا عرا ف : 180)یہ اس با ت کی دلیل ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان اسما کو ہما رے لیے اپنی کتاب یا اپنے رسو ل ﷺ کی زبا نی متعین کر دیا ہے یہ ننا نو نے نا م ہیں جیسا کہ اس با ر ے میں ایک صحیح خبر ہے ۔
حق تعالیٰ کے اسما دو طرح کے ہیں : ایک وہ جو اُ س نے ہمیں سکھا ئے اور دو سرے وہ جو اس نے اپنے غیب کے علم میں چھپا ئے ، جنہیں اُ س کی مخلو ق میں کوئی نہیں جا نتا ، ایک صحیح حد یث کا یہی بیا ن ہے ۔
وہ اسما جو اُ س نے ہمیں سکھا ئے وہ بھی دو طرح کے ہیں : ایک وہ اسما جو خا ص پہچا ن کے لیے ہیں جیسے کہ اسم اللہ ۔ اور دو سرے وہ اسما جو اضا فی صفات کو بیا ن کر تے ہیں ، یہ وہ بھی دو طر ح کے ہیں : ایک وہ اسما جو صفاتِ تنز یہ پر دلا لت کرتے ہیں ، اور دو سرے وہ اسما جو صفاتِ افعا ل پر دلا لت کرتے ہیں ۔
بندے کا اسما ئے حق تعالیٰ سے تعلق ، تحقیق اور تخلیق کا رشتہ ہے تعلق اس حیثیت سے تیرا اِن اسماکا مطلق محتاج ہونا ہے جس (حیثیت )سے یہ ذا ت پر دلا لت کرتے ہیں ۔ تحیقق حق تعالیٰ کے لحاظ سے اور خود تیر ے لحا ظ سے ان کے حقیقی معا نی کا جا ننا ہے جبکہ تخلق یہ ہے کہ تو ان سے ویسے قائم ہو جو تیرے لا ئق ہے جیسا کہ یہ (اسما)اُ س پا ک ذا ت سے ویسے منسو ب کیے جاتے ہیں جیسا اُ س کے شایا ن شان ہے ۔
Asool e Tafseer (Sawaal Jawab)
پیش نظر کتاب دورہ تفسیر کے علمی نکات اور افادات پر مبنی خزینہ معلومات ہے جسے مدارس کے نصاب، فہم قران کورسز کی بنیادی ضرورت اور دورہ تفسیر کی روایت کے عین مطابق مرتب کی گیا ہے۔ یہ اپنے اسلوب کے لحاظ سے بہت اہم اور مفید علمی کاوش ہے جو طالبان قران کے لیے قرانی موضوعات اور اصول تفسیر کے لوازم کے تحت تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اصول تفسیر کے مشکل مراحل کو سوال و جواب کے اسلوب میں آسان اور زود و فہم بنا دیا گیا ہے۔




