Description

اسفار اقبال
عنایت علی
اقبالیاتی ادب کم از کم دس دائروں میں منقسم ہے: تصانیفِ اقبال، تراجمِ اقبال، حوالہ جاتی کتب، سوانحی کتب، نقد و تحقیق وغیرہ۔
سوانحی کتب کے ذیل میں محمد حمزہ فاروقی نے کئی برس پہلے “سفرنامہ اقبال” مرتب کیا تھا۔ جو علامہ کے 1931، 1932 کے
سفرِ انگلستان اور مصر و فلسطین کی تفصیل پر مشتمل ہے۔ اقبال نے سولہ سترہ برس کی عمر سے سیالکوٹ سے لاہور اور واپسی
کے سفر کرنا شروع کیے۔ جناب عنایت علی نے علامہ کے دیگر اسفار کے بارے میں تفصیل مہیا کی ہے۔ انھوں نے علامہ کے
احوال اسفار کو ترتیب زمانی میں مرتب کیا ہے۔ اور اس موضوع پر ایک اچھی کتاب تیار کرنے کا ایک یہی بہتر طریقہ تھا۔ انھیں
اقبالیات کی سینکڑوں سوانحی کتب اور مضامین میں سفرِ اقبال سے متعلق جو معلومات ملیں، انھیں حوالوں کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔
اس طرح اسفارِ اقبال کا ایک بہترین مرقع تیار ہو گیا ہے۔ بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ اس سے قبل اس موضوع پر ایسی تفصیلی
اور جامع کتاب نہیں لکھی گئی۔
 اسفارِ اقبال کی اس تفصیل سے اس تاثر کی بھی تردید ہوتی ہے کہ علامہ اقبال ہر وقت گھر میں پڑے رہتے
تھے اور انھیں حرکت اور سفر سے نفور تھا۔ مجھے امید ہے کے قارئینِ اقبالیات، جناب عنایت علی کی اس کاوش کو دل چسپ اور معلومات
افزا پائیں گے۔

پرفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

Pages: 347

Reviews (0)

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Asfaar e Iqbal اسفار اقبال”

Your email address will not be published. Required fields are marked *