Ahsan ul Bayyan (Local)
This is the Tafseer of the Glorious Qur’an which is brief in form but comprehensive in interpretation of the meanings of the Quran enlightened with the thoughts, viewpoints, creed and perception of Salaf Saliheen, and a humble effort to understand the Qur’an in the light of the authentic Ahadiths of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and the sense of the Sahabah (May Allah be pleased with them all).
Ahsan ul Hidayah-احسن الھدایہ
الہدایہ شیخ الاسلام برہان الدین امام ابوالحسن علی بن ابی بکرمرغینانی (593ھ) کی تصنیف ہے۔ امام مرغینانی کی مشہور ترین کتاب ہے جو بدایۃ المبتدی کی شرح ہے۔ اس کی مماثل کتاب فقہ حنفی میں موجود نہیں۔ ایجاز کے ساتھ ایضاح کا ایسا نمونہ ہے جو شاید ہی کہیں اور مل سکے،مؤلف کی کچھ خاص اپنی تعبیرات بھی ہیں جسے دلیل قرآنی کے لیے "مما ترون"اور دلیل حدیث کے لیے "لما روینا" قول صحابی کے لیے "للاثر"عقلی دلیل کے لیے "لما بینا" لکھتے ہیں۔ مصنف اپنے لیے کہتے ہیں "قال العبد الضعیف عفی عنہ"یہ ان کے انتہائی تواضع کی علامت ہے[1] صاحب الہدایہ نے فقہ میں متن کی کتاب لکھی جس میں اہمیت کے ساتھ قدوری کے مسئلے کو لیا اور جہاں مسئلے نہ مل سکے وہاں امام محمد کی کتاب جامع صغیر سے مسئلے لیے اور دونوں کو ملا کر کتاب بدایة المبتدی تصنیف کی۔ اس کے دیباچہ میں وعدہ کیا کہ میں اس کی شرح بھی لکھوں گا۔ چنانچہ اسی 80 جلدوں میں اس کی شرح لکھی اور اس کا نام ،کفایۃ المنتہی ،رکھا۔ شرح سے فراغت کے قریب پہنچے تو محسوس ہوا کہ کتاب اتنی لمبی ہو گئی ہے کہ اس کو کوئی نہیں پڑھے گا۔ اور کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اصل کتاب ،بدایۃ المبتدی، ہی کو نہ چھوڑ دیں اس لیے بدایة المبتدی کی دوسری شرح مختصر لکھی جس کا نام ،ھدایہ، رکھا




