Allama Zahoor Ahmed Faizi
الصحابہ والطُلقاء (صحابہ اور طلقاء) – Sahaba aur Tulaqa by Qari Zahoor Ahmed Faizi
- کتاب کی نمایاں خصوصیات:
- علمی و تحقیقی مطالعہ: صحابیت کے درجات اور "طلقاء" کی شرعی حیثیت پر ایک مفصل اور مدلل تحقیقی دستاویز۔
- قرآن و سنت سے استدلال: سورۃ الانفال، سورۃ الفتح اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں صحابہ کرامؓ کے حقیقی مقام کی وضاحت۔
- صحابہ و تابعین کے آثار: سیدنا ابن عباسؓ، سیدنا علیؓ اور دیگر اکابر صحابہ و تابعین کے مستند اقوال سے طلقاء اور صحابہ کے درمیان فرق کی نشاندہی۔
- مغلطات کا ازالہ: "نفسِ صحابیت میں سب برابر ہیں" جیسے عام مگر علمی طور پر کمزور جملوں کا محققانہ محاسبہ۔
- تاریخی حقائق کی درستی: مکار بادشاہوں اور علمائے سو کی جانب سے مسخ شدہ تاریخ کے پردے چاک کر کے حقائق کو اصل شکل میں پیش کرنے کی کوشش۔
- سابقون اولون کی فضیلت: ہجرت، نصرت اور معیتِ مصطفیٰ ﷺ میں سبقت لے جانے والے نفوسِ قدسیہ کے خصوصی اعزازات کا بیان۔
- سادہ اور سلیس زبان: مشکل اور پیچیدہ علمی مباحث کو عام فہم اور سادہ اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے تاکہ ہر قاری مستفید ہو سکے۔
- حوالہ جات سے مزین: ہر دعوے اور تاریخی واقعے کے لیے مستند کتب کے حوالے اور عربی عبارات (اعراب کے ساتھ) شامل کی گئی ہیں۔
Haqeeqat e Tafzeel | Afzaliyat e Ali
- حقیقتِ تفصیل: افضلیتِ علیؓ اور دعویٰ اجماع کا تحقیقی جائزہ
- کتاب ریختہ پر پیشِ خدمت ہے علمی شاہکار "حقیقتِ تفصیل"، جو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی افضلیت کے موضوع پر ایک منفرد اور جرات مندانہ تحقیقی دستاویز ہے۔ اس کتاب میں مولانا احمد رضا خان (اعلیٰ حضرت) کے اس موقف کا علمی و تاریخی محاسبہ کیا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی افضلیت پر امت کا قطعی اجماع موجود ہے، اور ان روایات کی قلعی کھولی گئی ہے جنہیں اعلیٰ حضرت نے اپنے دعوے کی بنیاد بنایا۔
- مزید برآں، مصنف نے مفتی منیب الرحمان اور دیگر عصری علما کے ان حالیہ فتاویٰ کا بھرپور رد پیش کیا ہے جن میں افضلیتِ علیؓ کے قائلین کو گمراہ یا اہل سنت سے خارج قرار دیا گیا۔ مستند سنی ائمہ اور جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے حوالہ جات سے ثابت کیا گیا ہے کہ سیدنا علیؓ کو افضل ماننا نہ صرف جائز بلکہ سلف صالحین کا تسلیم شدہ راستہ ہے۔
- اہم خصوصیات:
- مولانا احمد رضا خان کے دعویٰ اجماع کی علمی و تاریخی تردید۔
- مفتی منیب الرحمان کے تضلیل آمیز فتاویٰ کا مدلل اور منطقی جواب۔
- افضلیتِ علیؓ پر صحابہ کرامؓ (جیسے سلمان فارسیؓ و ابوذر غفاریؓ) کے موقف کی وضاحت۔
- خلافتِ ظاہری اور فضیلتِ باطنی کے درمیان علمی فرق کا بیان۔
Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Radd | علامہ قاری ظہور احمد فیضی
"شانِ معاویہ میں باطل روایات کا رد" Shan-e-Muawiyah Mein Batil Riwayat Ka Raddعلامہ قاری ظہور احمد فیضی کی ایک بے باک تحقیقی تصنیف ہے جو دورِ حاضر میں فضائل کے نام پر پھیلائی جانے والی موضوع (Fabricated) روایات کا علمی تعاقب کرتی ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو "ردِ ناصبیت" اور مستند تاریخِ اسلام کے متلاشی ہیں۔ اس میں الیاس قادری (امیر اہل سنت) اور اشرف آصف جلالی (کنز العلماء) کے علمی دعاوی کا مدلل علمی رد موجود ہے۔
LIBRARY STOCK
FALL OUT POWER, INTRIGUE AND POLITICAL UPHEAVAL IN PAKISTAN
Shams-ul-Arifeen ( Urdu Translation with Persian Text) شمس العارفین | اردو ترجمہ مع فارسی متن | حضرت سلطان باہو
Anbiya as ki roshan kahanian انبیا عليه السلام کی روشن کہانیاں | ڈیلکس آیڈیشن
Deewan E Hafiz Shairazi-دیوان حافظ شیرازی
حافظ شیرازی صاحب کی تمام عمر کا حاصل بس ایک ہی دیوان ہے جو مقبول خاص و عام ہے۔ حافظ شیرازی کی شاعری کا سرمایہ ان سے زیادہ نہیں مگر اس سرمایہ سے انہوں نے تمام دنیا کی قدر دانی اور قبولیت خریدی۔ خواجہ صاحب نے کمال ایجاز سے عاشقانہ اور عارفانہ فضاء میں شاعری کی۔ ان کے یہاں مولانا روم کی حکمت و تصوف اور سعدی کا درس عشق ایک ساتھ نظر آتا ہے۔حافظ شیرازی کے دیوان میں غزلیں ملتی ہیں۔ دو مختصر مثنویاں ایک (ساقی نامہ) اور چند قصیدے اس پر مستزاد۔ حافظ شیرازی نے سعدی اور رومی کی پیروی کی۔ دیوان میں کم ازکم تیس غزلیں سعدی کی بحر میں ہیں اور چند رومی کے زیر اثر ہیں مگر الفاظ ، تراکیب ، معانی آفرینی اور دل آویزی میں آپ کا کلام اول سے آخر تک منفرد ہے۔ خواجہ صاحب کا دیوان کا ہر شعر نزاکت و لطافت ، ضائع و بدائع اور حسن و ادا کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ دیوان حافظ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اہل ایران حافظ کے دیوان سے فال نکالتے ہیں۔ دیوان کی اہمیت کے پیش نظر کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہوئے۔ زیر نظر دیوان میں فارسی عبارت کے ساتھ اردو ترجمہ اور حواشی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔




