LIBRARY STOCK

Pakistan Military Academy PMA

550.00
Pakistan Military Academy PMA Book By Dogar Publishers Title: Pakistan Military Academy PMA Book Pages: 240 Publisher: Dogar Brothers Buy

Aimma e Sihah e Sitta – Set of 6 Books صحاح ستہ کے مصنفین کے حالات | مکمل سیٹ

1,800.00
صحاح ستہ کے مصنفین کے حالات کا مکمل سیٹ سیرت امام محمد بن اسماعیل بخاری کے حالات زندگی صفحات کتاب

Farnood فرنود

Original price was: ₨1,500.00.Current price is: ₨1,300.00.
  • Author: Jaun Elia ( جون ایلیا)
  • Language: Urdu
  • Book Format: Hardcover

Aabroye ma – آبروئے ما

600.00
سیاسی،سماجی ،معاشی ،عسکری ودیگر معاملات پر مشتمل موضوعات

محبت عام کرنا چاہتا ہوں | Muhabbat Amm krna Chahta hun

600.00
کتاب: محبت عام کرنا چاہتا ہوں صنف : شاعری شاعر : ڈاکٹر عمر قیاز قائل تبصرہ نگار : محمد اکبر

Deewan E Hafiz Shairazi-دیوان حافظ شیرازی

Original price was: ₨2,200.00.Current price is: ₨1,800.00.
حافظ شیرازی صاحب کی تمام عمر کا حاصل بس ایک ہی دیوان ہے جو مقبول خاص و عام ہے۔ حافظ شیرازی کی شاعری کا سرمایہ ان سے زیادہ نہیں مگر اس سرمایہ سے انہوں نے تمام دنیا کی قدر دانی اور قبولیت خریدی۔ خواجہ صاحب نے کمال ایجاز سے عاشقانہ اور عارفانہ فضاء میں شاعری کی۔ ان کے یہاں مولانا روم کی حکمت و تصوف اور سعدی کا درس عشق ایک ساتھ نظر آتا ہے۔حافظ شیرازی کے دیوان میں غزلیں ملتی ہیں۔ دو مختصر مثنویاں ایک (ساقی نامہ) اور چند قصیدے اس پر مستزاد۔ حافظ شیرازی نے سعدی اور رومی کی پیروی کی۔ دیوان میں کم ازکم تیس غزلیں سعدی کی بحر میں ہیں اور چند رومی کے زیر اثر ہیں مگر الفاظ ، تراکیب ، معانی آفرینی اور دل آویزی میں آپ کا کلام اول سے آخر تک منفرد ہے۔ خواجہ صاحب کا دیوان کا ہر شعر نزاکت و لطافت ، ضائع و بدائع اور حسن و ادا کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ دیوان حافظ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اہل ایران حافظ کے دیوان سے فال نکالتے ہیں۔ دیوان کی اہمیت کے پیش نظر کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہوئے۔ زیر نظر دیوان میں فارسی عبارت کے ساتھ اردو ترجمہ اور حواشی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

Quaid e Azam aur Tehreek e Azadi

220.00
Author: Prof Jilani Kamran

اس کتاب میں تحریکوں کا محاکمہ تاریخی پس منظر اور فلسفہ تاریخ کے اُصولوں میں کیا گیا ہے۔

مصنف کے مطابق پاکستان ایک مسلسل سیاسی عمل کا نتیجہ ہے اور اسے ’’تقسیمِ ملک‘‘ قرار دینا محض ایک ذہنی الجھائو ہے۔

بابائے قوم کی شخصیت نے قوم کی زندگی پر جو اَنمٹ نقوش چھوڑے ہیں اس کتاب میں ان کا دلآویز تجزیہ ہے۔