Ghazi Ilm ud Deen Shaheed غازی علم الدین شہید
₨800.00
غازی علم دین 8 ذیقعدہ 1366ءبمطابق 4 دسمبر 1908ءکو کوچہ چابک سوارں لاہور میں متوسط طبقے کے
ایک فرد طالع مند کے گھر میں پیدا ہوئے۔ جو بڑھئی (یعنی لکڑی)کا کام کرتے تھے۔ طالع مند اعلیٰ پائے کے
ہنرمند تھے۔ جن کا اپنے علاقے کے جانے پہچانے کاریگروں میں شمار ہوتا تھا۔۔ وہ علم دین کوگاہے گاہے اپنے
ساتھ کام پرلاہور سے باہر بھی لے جاتے۔ ایک بیٹا پڑھ لکھ کر سرکاری نوکری کرنے لگا، اور ایک دوسرا بیٹا
محمد امین والد کے ساتھ لکڑی کے کام پر ہی رہا، اور علم دین نے ابتدائی تعلیم اپنے محلے کے ایک مدرسے میں
حاصل کی. تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے آبائی پیشہ کو ہی اختیار کیا اور اس فن میں ہی اپنے والد اور بڑے
بھائی میاں محمد امین کی شاگردی اختیار کی
1928 میں آپ کوہاٹ منتفل ہو گئے اور بنوں بازار میں اپنا فرنیچر سازی کا کام شروع کیا.
لاہور کے ایک ناشر شیطان صفت “راجپال” نے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے
خلاف ایک دل آزارکتاب ”رنگیلا رسول“ شائع کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ جس پر مسلمانوں میں
سخت اضطراب پیدا ہوا.
مسلمان رہنماؤں نے انگریز حکومت سےاس دل آزار کتاب کو ضبط کرانے اور ناشر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا.
تو مجسٹریٹ نے ناشر “راجپال” کو صرف چھ ماہ قید کی سزا پر ہی اکتفا کیا۔ جس کے خلاف مجرم نے ہائی کورٹ میں
مزيد اپیل کی جہاں جسٹس دلیپ سنگھ مسیح نے اس کو رہا کردیا. انگریز حکومت کی عدم توجہی سے مایوس ہو کر مسلمانوں
نےمتعدد جلسے جلوس منعقد کئے.مگر انگریز حکومت نے روایتی مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کرکے
الٹا مسلمان رہنماؤں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا.مسلمانوں میں یہ احساس جاگزیں ہونے لگا کہ حکومت وقت ملعون ناشر کو
بچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ جان گۓ کہ اس ملعون کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے ان کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا.
اسی دوران لاہور کے ایک غازی خدابخش نے24 ستمبر 1928 کو اس گستاخ کو اس کی دکان پر نشانہ بنایا، تاہم وہ خبیث بھاگ
کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگيا. غازی خدابخش کو گرفتاری کے بعد 7 سال کی سزاسنائی گئی. اسی طرح ایک اور مرد مجاہد
گھر سے کفن باندھ کر نکلا، جو افغانستان کا ایک غازی عبدالعزیز تھا، جس نے لاہور آکر اس شاتم رسول کی دکان کارخ کیا مگر
یہ بدبخت دکان میں موجود نہیں تھا اس کی جگہ اس کا دوست سوامی ستیانند موجود تھا۔ غازی عبدالعزیز نے غلط فہمی میں اس
کو ہی راجپال سمجھ کر ٹھکانے لگا دیا. غازی عبدالعزیزکو حکومت وقت نے چودہ سال کی سزا سنائی. راج پال ان دو حملوں
کے بعد نہایت خوفزدہ رہنے لگا. حکومت نے اس کی پشت پناہی کرتے ہوئے دو ہندو سپاہیوں اور ایک سکھ حوالدار کو اس کی حفاظت پر متعین کردیا.
نظر اللہ پہ رکھتا مسلمان غیور
موت کیا شہ ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے جن کا خون حرم سے بڑھ کر
آہ! اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں؟
حرف” لا تدعو مع اللہ الہ آخر”
— اقبال رحمۃ اللہ علیہ—






Reviews
There are no reviews yet.