Kulyat e Aatish
Kulyat e Aatish Original price was: ₨1,000.00.Current price is: ₨800.00.
Back to products

Kulyat e Peteres کلیات پطرس

1,100.00

Kulyat e Pitras

Author(s): Patras Bukhari

Pages(s): 712

Description

 

سید احمد شاہ المعروف پطرس بخاری یکم اکتوبر1898 ء میں پشاور، میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید اسد اللہ شاہ بخاری  پشاورکے ایک معروف وکیل خواجہ کمال الدین کے منشی تھے۔

اس زمانے کے رواج اور خاندانی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے پطرس بخاری کو گھر پر ناظرہ قرآن پاک پڑھایا گیا۔ فارسی زبان کی تعلیم ضروری خیال کی جاتی تھی اسی لیے “صفوۃ المصادر” کے ذریعے فارسی زبان کے قواعد کی باقاعدہ تعلیم دی گئی۔ دینی اور ثقافتی بنیاد فراہم کرنے کے بعد والد نے آنے والے دور کے تقاضوں کو بھانپتے ہوئے دوستوں اور خیر خواہوں کے اعتراضات کی پروا نہ کرتے ہوئے نو سالہ پیر احمد شاہ (پطرس بخاری) کو انگریزی تعلیم کے لیے مشن اسکول پشاور میں داخل کرادیا۔ مشن اسکول میں داخل ہوتے ہی انہوں نے انگریزی نظمیں زبانی یاد کرنا شروع کر دیں۔ اس زمانے میں انگریزی کے استاد انگریز ہوتے تھے جو بچوں کے تلفظ کا خاص خیال رکھتے تھے۔ احمد شاہ کی آواز، انگریزی لہجے اور خوبصورت تلفظ کے سبب ان کی انگریزی نظم خوانی پر اساتذہ خصوصی توجہ دیتے تھے۔ اس طرح انگریزی ادب سے مانوسیت نے دلی لگاؤ کی کیفیت پیدا کردی۔۔مشن ہائی اسکول میں تعلیم کے اعلیٰ معیار سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا اور 1913ء میں پندرہ برس کی عمر میٹرک میں اعلیٰ نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ والد صاحب نے انہیں 1914ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ دلوا دیا جہاں وہ ابتدا میں شرمیلے، کم گو اور ہوشیار طالبِ علم کی حیثیت سے اُبھرے ۔ جہاں انہوں نے 1916ء سے 1922ء تک تعلیم حاصل کی۔

ادبی زندگی کا آغاز

پطرس بخاری نے اپنی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز سول اینڈ ملٹری گزٹ سے کیا۔ وہ عموماً تنقیدی مضامین لکھتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے Peters Watkins کا قلمی نام اختیار کیا تھا۔ یہ ایک لحاظ سے مشن اسکول پشاور کے ہیڈ ماسٹر سے قلبی تعلق کا اظہار تھا۔ جس کے لفظ پیٹر کے فرانسیسی تلفظ نے پیر احمد شاہ کو پطرس بنا دیا۔ اس وقت سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر M.E. Hardy تھے جو بخاری کو ایک کالم کا سولہ روپیہ معاوضہ ادا کرتے تھے جس کی قدر اس زمانے میں تین تولہ سونے سے زائد تھی

پطرس قلمی نام

پطرس بخاری نے پطرس کا قلمی نام سب سے پہلے رسالہ کہکشاں کے ایک سلسلۂ مضامین یونانی حکماء اور ان کے خیالات کے لیے استعمال کیا۔ بخاری کی تحریریں پطرس کے نام سے اپنے زمانے کے مؤقر رسائل و جرائد میں شائع ہوتی تھیں۔ ان کی بیشتر تحریریں کارواں، کہکشاں، مخزن، راوی اور نیرنگ خیال میں اشاعت پزیر ہوئیں۔

Reviews (0)

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Kulyat e Peteres کلیات پطرس”

Your email address will not be published. Required fields are marked *